تیونس : امام کی جانب سے خواتین کے لیے "کراہت" کے اظہار پر مذہبی امور کی وزارت متحرّک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

تیونس کے صوبے المنستیر میں ایک مسجد کے امام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں خواتین امیدواروں کو ووٹ نہ دیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ انتخابات میں صرف نمازی امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالا جائے۔ مذکورہ امام کے اس موقف پر تیونس میں مختلف حلقوں کی جانب سے سخت نا پسندیدگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کے نزدیک یہ امر واضح طور پر مداخلت اور ایک مخصوص گروپ کے حق میں جانب داری ہے۔

المنستیر صوبے کی مسجد کے امام نے یہ بات نماز جمعہ کے خطبے کے دوران کہی جس پر مذہبی امور کی وزارت حرکت میں آ گئی ہے۔

دوسری جانب مذہبی امور کی وازرت نے جمعے کی شام جاری فیصلے میں مذکورہ امام کو اپنے منصب سے برخاست کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فیصلے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مسجد کے امام نے منبر کو ایک مخصوص سیاسی جانب کے حق میں ووٹ ڈالنے کی دعوت دینے کے واسطے استعمال کیا۔

یاد رہے کہ تیونس میں 2011ء کے انقلاب کے بعد اتوار چھ مئی کو پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 53 لاکھ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں