جوہری سمجھوتے پر ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے کے توڑ کے لیے منصوبہ تیار ہے: حسن روحانی

امریکا ایران سے جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہوا تو اس فیصلے پر مستقبل میں پچھتائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے کے خاتمے کے لیے کسی بھی فیصلے سے نمٹنے کی غرض سے منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایسا کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کو اس پر پچھتانا پڑے گا۔

حسن روحانی نے اتوار کو ایک نشری تقریر میں کہا کہ ’’ ہم نے جوہری سمجھوتے کے بارے میں صدر ٹرمپ کے فیصلے کی مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔اگر امریکی جوہری ڈیل سے نکل جاتے ہیں تو انھیں اس پر تاریخی پچھتاوا ہوگا‘‘۔

ایرانی صدر نے یہ بیان صدر ٹرمپ کے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان تاریخی جوہری سمجھوتے کے بارے میں کسی ڈرامائی فیصلے کے اعلان سے ایک ہفتہ قبل جاری کیا ہے۔

دریں اثناء امریکی صدر کے وکیل اور معتمد ساتھی روڈی جولیانی نے کہا ہے کہ ’’ ٹرمپ ایران میں رجیم کی تبدیلی کے لیے پُرعزم ہیں ‘‘۔ جولیانی نیویارک کے سابق میئر ہیں ۔انھوں نے واشنگٹن میں ایرانی حزب اختلاف کی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایران میں نظام کی تبدیلی ہی سے مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امن قائم کیا جاسکتا ہے‘‘۔

ان کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ جولائی 2015ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہو جائیں گے۔انھوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’’ وزیر خارجہ مائیک پومپیو صدر ٹرمپ کے دائیں طرف کھڑے ہیں اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن بائیں طرف کھڑے ہیں ۔اس صورت میں آپ کیا توقع کرسکتے ہیں کہ سمجھوتے کے بارے میں کیا فیصلہ ہوگا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں