ہم ہولو کاسٹ اور انسانیت پر اس کے اثرات سے انکار نہیں کرسکتے :سربراہ عالمی رابطہ اسلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی رابطہ اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر محمد العیسیٰ کا کہنا ہے کہ دنیا ہولو کاسٹ کی تاریخی اہمیت اور اس کے انسانیت پر اثرات کا انکار نہیں کرسکتی ہے۔

شیخ محمد العیسیٰ نے یہ بات واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے مشرق قریب پالیسی کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کلیدی تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا:’’ ہم اس واقعے سے انکار یا اس کی اہمیت کو کم نہیں کرسکتے ہیں ۔میں نے اس واقعے پر ایک پیغام لکھا تھا اور اس میں اپنے احساسات کا اظہار کیا تھا۔اس پیغام کے ردعمل میں مسلم دنیا اور اس کے باہر سے بڑا ردعمل آیا تھا کیونکہ ہمارے اسلامی ادارے اسلامی دنیا میں ایک بڑا اہم کردار ادا کررہے ہیں اور ان کا دنیا بھر میں ایک بڑا اثر ہے‘‘ ۔

محمد العیسیٰ اسی سال کے اوائل میں اپنے ایک خط کا حوالہ دے رہے تھے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کوئی بھی ہولو کاسٹ کی تاریخی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔انھوں نے اس کانفرنس میں کہا :’’ میں ذاتی طور پر ایک مسلم کی حیثیت سے اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں سچ بولنا چاہیے اور ہمیں اس موضوع پر عالمی رابطہ اسلامی کی جانب سے بولنا چاہیے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم نے اس آفت کو ہمیشہ ایک مجرمانہ سینس کے ذریعے دیکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس تباہی کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے عذر خواہی سے کام لیتے رہے ہیں اور اس کی مذمت کے بجائے اس کو ایک اور نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور ہولو کاسٹ کی تباہ کاریوں کی مذمت اس کی شدت کے اعتبار سے نہیں کرتے رہے ہیں‘‘ ۔

عالمی رابطہ اسلامی کے سربراہ ماضی میں ایک موثر مکالمے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں ۔انھوں نے واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے مشرقِ قریب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رابرٹ سیٹلوف سے اسلام اور اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج کی دنیا مذہبی ، دانشورانہ ، ثقافتی اور تہذیبی تنوع کے تناظر میں اللہ کی منشا ومرضی کی تفہیم کے فقدان سے متعلق شکایت کررہی ہے۔اس کے علاوہ باہم مل جل کر رہنے کی اہمیت کی تفہیم کا بھی فقدان پایا جاتا ہے حالانکہ یہ بنی نوع انسان کا باہم مل جل کر امن و آشتی سے رہنے کا ایک اصول ہے‘‘۔

ڈاکٹر محمد العیسیٰ ماضی میں یہ نشان دہی کر چکے ہیں کہ ’’مذہبی اور دانشورانہ تنازعات ہی انتہا پسندی کا نتیجہ نہیں ہیں اور نہ ذہنی طور پر یرغمال بنا ئے گئے اس کے تنہا ذمے دار ہیں کیونکہ وہ تو صرف بھیڑیں ہیں اور انھیں بھیڑیے کنٹرول کررہے ہیں‘‘ ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں