سعودی خواتین میں بے روزگاری کی شرح میں بتدریج کمی

مملکت میں سعودی ملازمین کی تعداد میں اضافہ اور غیر ملکی ملازمین کی تعداد میں کمی واقع ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں مقامی شہریوں میں مالی سال 2017ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران میں بے روزگاری کی شرح 12.8 فی صد کی سطح پر برقرار رہی ہے۔ان اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ مقامی مرد وخواتین کو روزگار کے مواقع مہیا کررہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب کے ادارہ شماریات کے سربراہ ڈاکٹر فہد التخیفی سے اس حوالے سے گفتگو کی ہے ۔انھوں نے بتایا ہے کہ سعودی معیشت میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے اور 2017ء کی چوتھی سہ ماہی میں سعودی معیشت کے مختلف شعبوں میں خواتین کی شرکت کا تناسب 19.4 فی صد رہا ہے جبکہ تیسری سہ ماہی میں یہ تناسب 17.8 فی صد تھا۔

اس سہ ماہی کے دوران میں سعودی مردوں کی ملکی معیشت میں شرکت کی شرح 63.4 فی صد رہی ہے۔اس کے مقابلے میں تیسری سہ ماہی میں مردوں کی شرکت کی شرح 62.6 فی صد رہی تھی۔

ڈاکٹر فہد التخیفی نے بتایا ہے کہ سعودی خواتین میں بے روزگاری کی شرح میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں یہ شرح 32.7 فی صد تھی اور چوتھی سہ ماہی میں یہ شرح کم ہو کر 31 فی صد ہوگئی ہے۔

ان کے بہ قول روزگار کی تلاش میں سرگرداں سعودیوں کی کل تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ایسے افراد کی تعداد 1,086,561 ہے۔ چوتھی سہ ماہی میں ان کی تعداد میں 11.8 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔اعداد وشمار سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ مملکت میں سعودی ملازمین کی تعداد میں اضافہ اور غیر ملکی ملازمین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ڈاکٹر فہد نے یہ بھی نشان دہی ہے کہ گروپ 20 کے رکن ممالک میں سعودی عرب میں آبادی کی شرح سب سے زیادہ ہے اور یہ 2.5 فی صد سالانہ ہے۔یہ ان ممالک میں سب سے زیادہ شرح ہے جن کی آمدن کا انحصار صرف ایک ذریعے پر ہے۔اسی لیے سعودی ویژن 2030ء کے تحت معیشت کو متنوع بنانے اور تیل کی معیشت پر انحصار کم کرنے کے لیے آمدن کے نئے ذرائع تلاش کیے جارہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی کل آبادی میں 15 سے 34 سال کی عمر کے افراد کی تعداد 33.9 فی صد ہے اور 30 سال سے کم عمر برسر روزگار افراد کی تعداد 48 فی صد ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق سرکاری اور نجی جامعات ،کالجوں اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کی تعداد 1,600,000 کے لگ بھگ ہے ۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ہر سال ساڑھے تین لاکھ طلبہ اعلیٰ ڈگریوں کے ساتھ فارغ التحصیل ہورہے ہیں اور روزگار کی تلاش میں سرگرداں اتنے مزید افراد کا سالانہ اضافہ ہوجاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں