ولادی میر پوتین کی چوتھی مدتِ صدارت کے لیے حلف برداری

روس بین الاقوامی زندگی میں مضبوط ، فعال اور موثر شراکت دار ہے،اس کو مزید متحرک ہونا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے اپنی چھے سالہ چوتھی مدت کے لیے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

65 سالہ پوتین نے کریملن محل کے رنگے برنگے سجے آندریوسکی ہال میں منعقدہ تقریب میں سوموار کو سنہری چھپے ہوئے آئین کے نسخے پر حلف اٹھایا۔ان کے حلف کی عبارت یہ تھی کہ وہ روسی عوام ،ان کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کریں گے اور روس کی خود مختاری کا دفاع کریں گے۔

روس کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق صدر پوتین نئی روسی ساختہ لیموزین میں سوار ہو کر حلف برداری کے لیے آئے تھے۔اس سے پہلے وہ درآمدہ گاڑیاں حلف برداری کے وقت استعمال کرتے رہے ہیں۔روسی ساختہ اس لیموزین کی بھی یہ پہلی رونمائی تھی۔یہ روس کی ایک اور کار زیڈ آئی ایل سیڈان کی جگہ لے گی۔

انھوں نے حلف برداری کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کہا کہ روس کی معیشت بین الاقوامی پابندیوں کے نتیجے میں مختصر وقت کے لیے بحران کا شکار ہونے کے بعد سے بہتری کی جانب گامزن ہے۔ آیندہ چھے سال کے دوران میں ملکی معیشت کی بہتری ان کا اولین مقصد ہوگا۔

انھوں نے ملکی معیشت اور ٹیکنالوجی کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زوردیا اور کہا کہ ’’ نیا معیار زندگی ، فلاح وبہبود ، سکیورٹی اور لوگوں کی صحت کو ترجیح حاصل ہوگی‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ روس کو جدید اور متحرک ہونا چاہیے ۔اس کو وقت کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے‘‘۔

ولادی میر پوتین نے ملک کے بین الاقوامی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ روس بین الاقوامی زندگی میں مضبوط ، فعال اور موثر شراکت دار ہے۔ملک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیت کی اعتباریت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ آیندہ ہم ان امور پر مستقلاً توجہ مرکوز کرتے رہیں گے‘‘۔

ولادی میر پوتین مارچ میں 77 فی صد ووٹ لے کر چوتھی مرتبہ مزید چھے سال کے لیے صدر منتخب ہوگئے تھے اور اب وہ 2024ء تک برسراقتدار رہیں گے۔ روسی آئین کے تحت اس مدت کے خاتمے کے بعد وہ صدارتی امیدوار نہیں بن سکیں گے۔اس طرح وہ سوویت یونین کے سابق مطلق العنان صدر جوزف اسٹالن کے بعد طویل عرصہ تک منصبِ صدارت پر فائز ہونے والے لیڈر بن جائیں گے۔اسٹالن قریباً تیس سال تک سوویت یونین کے صدر رہے تھے۔

ان کی حلف برداری کی تقریب میں ہزاروں افراد شریک تھے ۔اس سے قبل پولیس نے ہفتے کے روز حزب ِاختلاف کے لیڈر الیکسئی نوالنی اور سیکڑوں حکومت مخالف کارکنان کو گرفتار کر لیا تھا۔ نوالنی نے روس کے 90 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں لوگوں سے صدر پوتین کے زار طرزِ حکمرانی اور حلف برداری کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ الیکسئی نوالنی کو صدر پوتین کے مقابلے میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا تھا۔انھیں ماضی میں بھی اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔وہ ہزاروں افراد کی ریلیوں سے خطاب کر چکے ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں