.

امریکا : گریجویشن کی تقریب میں طلبہ ہتک آمیز برتاؤ کا شکار !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی "فلوریڈا یونی ورسٹی" کی گریجویشن تقریب سے متعلق ایک وڈیو کے وائرل جانےہو کے بعد انٹرنیٹ کے حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وڈیو میں یونی ورسٹی کے ایک ملازم کو متعدد سیاہ فام طلبہ کے ساتھ انتہائی درشتی سے پیش آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

منظر عام پر آنے والے وڈیو کلپس کے مطابق تقریب کے ایک منتظم نے جو طلبہ کی اسٹیج کی جانب پیش قدمی میں رہ نمائی بھی کر رہا تھا اس نے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہوئے بعض طلبہ کو شدّت کے ساتھ گھسیٹا جو ایک انتہائی نا مناسب منظر تھا۔

یونی ورسٹی کے مذکورہ ملازم نے محسوس کیا کہ طلبہ اپنا نام پکارے جانے کے بعد ڈگری کی وصولی کے اسٹیج تک پہنچنے میں زیادہ طویل وقت لے رہے ہیں جس پر اُس نے یہ طریقہ کار اختیار کیا۔

وڈیو کے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کبھی تو اس منتظم نے گریجویٹ طلبہ کو سفید کالروں سے پکڑا اور کبھی دونوں بازوں کو سختی سے جکڑا۔

ہفتے کے روز منعقد تقریب میں شریک ایک طالب علم کرسٹوفر گارشیا نے انگریزی ویب سائٹ Gainesville.com کو بتایا کہ "میں نے یہ ملاحظہ کیا کہ سیاہ فام طلبہ نے جب قطار میں چلتے ہوئے زیادہ وقت لیا تو انہیں طاقت کے ذریعے آگے دھکیلا گیا"۔

گارشیا کے مطابق گریجویشن تقاریب اور اس طرح کے مواقع پر لاپروائی کے ساتھ چلنا سیاہ فاموں کی ثقافت کا حصّہ ہے۔ یہ لاتینی اورخواتین کی انجمنوں اور شمالی اور جنوبی امریکا میں راہبات کا طریقہ اور رواج ہے۔

گارشیا کے ایک دوست اولیور ٹیلوسما کے مطابق ایونٹ کے دوران اسے شرمندگی محسوس ہوئی۔ اس نے واضح کیا کہ "مذکورہ منتظم نے جب مجھے پکڑ کر ایک جانب کیا تو مجھے یہ عمل شرمندگی اور ہتک کا باعث لگا۔ یہ عمل واقعتا بلا جواز تھا بالخصوص کسی بھی ایسے شخص کے لیے جس کو اس کی تربیت نہ ملی ہو یا اسے توقع نہ ہو"۔

فلوریڈا یونی ورسٹی کے سربراہ کینٹ فوکس نے اتوار کے روز ٹوئیٹر پر ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں یونی ورسٹی کے ترجمان نے معذرت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ تقریب میں ایک منتظم کی جانب سے اختیار کیے گئے موقف کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق ہفتے کے روز منعقد تقریب کے دوران طلبہ کو معاندانہ اور نا مناسب طریقے سے اسٹیج کی طرف دھکیلا گیا۔

یونی ورسٹی کے سربراہ نے بھی اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ "میں ذاتی طور پر معذرت پیش کرتا ہوں اور متعلقہ طلبہ کے ساتھ رابطہ کروں گا"۔

انگریزی ویب سائٹGainesville.com کے مطابق اس نا مناسب برتاؤ کا شکار ہونے والے زیادہ تر طلبہ سیاہ فام تھے۔