.

ایرانی منصوبہ بندی سے ہونے والے حوثی حملے مملکت کا بال بیکا نہیں کر سکتے: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ایرانی منصوبہ بندی سے سعودی عرب کئے جانے حوثی حملوں سے مملکت کے استحکام کو کوئی گزند نہیں پہنچ سکتا۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں سعودی عہدیدار کا کہنا تھا کہ “سعودی عرب پر ایرانی منصوبہ بندی سےکئے جانے والے حوثی حملوں کی بین الاقوامی برادری شدید مذمت کرتی ہے۔ ان سےحوثیوں کی دہشت گردی آشکار ہوتی ہے۔ یہ حملے ہماری ترقی اور استحکام کو کبھی متاثر نہیں کر سکتے۔”

ادھر یمنی کیاآئینی حکومت کو مدد فراہم کرنے والے عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ حوثی ملیشیا جنگ میں تعلیمی، مذہبی اور سفارتی اداروں کو جھونک کر بین الاقوامی اور انسانی قانون قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

انھوں نے اس دعوی کے ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو دکھائی جس میں حوثی بندوق برداروں کو مسجد میں داخل ہونے کے بعد اس کے مینار پر چڑھتے دیکھا جا سکتا ہے تاکہ مینار میں بیٹھ کر حوثی نشانچی لوگوں کو ہدف بنا سکیں۔

انھوں نے بتایا کہ اتحادیوں نے یمن میں حوثی ملیشیا کی 107 چوکیاں تباہ کی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ ملنے والی یمنی سرحد پر کئی دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ البیضاء سرحد پر کئی حوثی کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔