.

سعودی عرب میں خواتین کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کی تاریخ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خواتین کے آزادانہ کاریں چلانے میں صرف ڈیڑھ ماہ کا عرصہ حائل رہ گیا ہے اور حکومت نے انھیں 24 جون سے ڈرائیونگ شروع کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کردیا ہے۔

سعودی عرب کے محکمہ ٹریفک کے ڈائریکٹر جنرل محمد البسامی نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’خواتین کے کاریں چلانے کے لیے درکار تمام تقاضوں کو پورا کردیا گیا ہے۔18 سال اور اس سے زیادہ عمر کی خواتین ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے درخواستیں دے سکیں گی‘‘۔

واضح رہے کہ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ستمبر 2017ء میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے خواتین کو آیندہ ماہ جون سے کاریں چلانے کی اجازت دے دی تھی اور ان کے گاڑیاں چلانے پر عاید عشروں سے جاری پابندی ختم کردی تھی۔

اس فرمان کے بعد سے خواتین کو کار چلانے کی تربیت دینے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں اور سعودی عرب کے پانچ شہروں میں ڈرائیونگ اسکول قائم کیے گئے ہیں۔ وہاں بیرون ملک سے کاریں چلانے اور لائسنس یافتہ سعودی خواتین کو ٹرینر مقرر کیا جا رہا ہے۔

محمد البسامی کے بیان کے مطابق بیرون ملک سے ڈرائیونگ لائسنس کی حامل خواتین ایک الگ عمل کے ذریعے مقامی لائسنس کے حصول کے لیے درخواست دے سکیں گی اور ان کی کار چلانے کی مہارت کی جانچ کی جائے گی۔یہ کوئی سربستہ راز نہیں کہ بہت سی سعودی خواتین کے پاس بیرون ملک سے حاصل کردہ ڈرائیونگ لائسنس موجود ہیں ۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پیش کردہ ویژن 2030ء کے تحت مملکت میں خواتین کو قومی دھارے میں لانے اور قومی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں ۔اب سعودی خواتین کو اپنا اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے اپنے مرد ولی یا سرپرست سے اجازت لینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔جون سے کاریں چلانے کی اجازت ملنے کے بعد وہ بھی مملکت کی افرادی قوت میں شامل ہوسکیں گی اور مختلف شعبوں میں ان کی ملازمت کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔