.

سعودی عرب نے صدر ٹرمپ کے ایران پر پابندیوں کی بحالی کے فیصلے کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہنے اور اس پر پابندیوں کی بحالی کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

الریاض میں جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ سعودی عرب نے ماضی میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے کی حمایت کی تھی اور اس کی جانب سے حمایت اس پختہ اعتقاد کی بنا پر تھی کہ اس سے مشرق وسطیٰ اور دنیا میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملے گی‘‘۔

’’لیکن ایران نے اس سمجھوتے کو خطے میں اپنی تخریبی سرگرمیوں بالخصوص بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جاری رکھنے کے لیے استعمال کیا۔اس نے حزب اللہ اور حوثی ملیشیا سمیت خطے میں دہشت گرد گروپوں کی حمایت کی ۔انھوں نے ایران کی منتقل کردہ صلاحیتوں کی بدولت سعودی مملکت اور یمن میں شہریوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ، بین الاقوامی جہازرانی کے لیے بار بار خطرے کا موجب بنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی ننگی خلاف ورزی کی‘‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

سعودی عرب نے امریکی صدر کی ایران کے بارے میں اعلان کردہ حکمت عملی کا خیرمقدم کیا ہے اور اس کی حمایت کا ا عادہ کیا ہے۔اس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عالمی برادری ایران ،اس کی خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کارروائیوں اور حزب اللہ اور حوثی ملیشیا سمیت دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے خلاف ایک پختہ اور متحدہ موقف اختیار کرے گی ‘‘۔

امریکی صدر کے جوہری سمجھوتے سے دستبردار کے اعلان کے بعد اب ایران کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بھی ان کی تقلید میں اس سے دستبردار ہوجائے گا یا وہ اس میں فریق پانچ دوسرے ممالک برطانیہ ، چین ، فرانس ،جرمنی اور روس کے ساتھ باقی ماندہ سمجھوتے کو برقرار رکھے گا ۔ایران کی جانب سے اب تک مختلف بیانات سامنے آئے ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امریکی صدر کے فیصلے کی روشنی میں اپنے ردعمل کا اظہار کرے گا۔