.

عرب اتحاد کے صنعاء میں صدارتی محل پر حملے کے بعد حوثیوں نے سکیورٹی سخت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں صدارتی محل پر عرب اتحادی افواج کے فضائی حملے کے بعد حوثی شیعہ باغیوں نے اپنے مزید جنگجوؤں کو طلب کر لیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے دارالحکومت میں متعدد نئے سکیورٹی چیک پوائنٹس قائم کردیے ہیں اور شہر کی متعدد اہم شاہراہوں پر اپنے جنگجوؤں کو تعینات کردیا ہے۔

انھوں نے اسپتالوں کی سکیورٹی بھی سخت کردی ہے ۔وہاں فضائی حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو منتقل کیا گیا تھا مگر حوثی ملیشیا ان کی شناخت چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس نے اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے۔

عرب اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ فضائی حملوں میں حوثیوں کی پہلے اور دوسرے درجے کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔حوثیوں کا کہنا تھا کہ صدارتی محل پر حملے میں چھے افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔تاہم انھوں نے اپنے کسی اعلیٰ عہدے دار کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔

صنعاء کے وسطی علاقے التحریر میں مرکزی بنک کی عمارت کے سامنے واقع صدارتی محل پر اتحادی طیاروں نے دو فضائی حملے کیے تھے۔ پہلے حملے میں صدارتی محل کی باڑھ اور جنریٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا اور دوسرا حملہ صدارتی محل کی عمارت پر کیا گیا تھا۔

اس حملے سے چند گھنٹے قبل عرب اتحادی فوج نے صنعا ء میں حوثیوں کے زیر قبضہ وزارت دفاع اور داخلہ کی عمارتوں پر بمباری کی تھی۔