.

امریکا صرف دھمکیاں نہیں دیتا، ٹرمپ ایران سے جوہری سمجھوتے سے دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

انھوں نے منگل کو ایک نشری تقریر میں کہا کہ ’’ امریکا محض خالی خولی دھمکیاں نہیں دیتا‘‘۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں اطلاع دی ہے کہ انھوں نے جوہری سمجھوتے سے لاتعلقی کے لیے ایک انتظامی حکم پر دستخط کر دیے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ جوہری سمجھوتا امریکا اور اس کے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا لیکن ایران نے یورینیم کو افزودہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔اگر امریکا اس سمجھوتے سے دستبردار نہیں ہوتا تو مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجاتی‘‘۔

امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد اب ایران کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بھی ان کی تقلید میں جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہوجائے گا یا وہ اس میں فریق پانچ دوسرے ممالک برطانیہ ، چین ، فرانس ،جرمنی اور روس کے ساتھ باقی ماندہ سمجھوتے کو برقرار رکھے گا ۔ایران کی جانب سے اب تک مختلف بیانات سامنے آئے ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امریکی صدر کے فیصلے کی روشنی میں اپنے ردعمل کا اظہار کرے گا۔

قبل ازیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانو ایل ماکروں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ امریکا ایران سے جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہورہا ہے۔ فرانسیسی صدر نے برطانوی وزیراعظم تھریزامے اور جرمن چانسلر اینجیلا میرکل سے صدر ٹرمپ کے اعلان سے قبل آدھ گھنٹے تک کانفرنس کال کی اور ان سے امریکی صدر کے فیصلے کے ممکنہ مضمرات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے صدر ٹرمپ اور عمانو ایل ماکروں کے درمیان گفتگو کی تفصیل سے آگاہ ایک ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف جوہری سمجھوتے کے نتیجے 2016ء کے اوائل میں ہٹائی گئی پابندیوں کو بحال کرنے کی تیار کر لی ہے اور ان کے علاوہ اضافی اقتصادی پابندیاں بھی عاید کی جائیں گی۔

امریکا کے یورپی اتحادی ایران سے جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے پر زور دیتے رہے ہیں لیکن وہ صدر ٹرمپ کو اس سمجھوتے کو برقرار رکھنے کے لیے قائل نہیں کرسکے ہیں اور اب زیادہ امکان یہی ہے کہ امریکا کی دستبرداری کے بعد یہ سمجھوتا ختم ہوجائے گا۔

ایران نے پہلے ہی امریکی صدر کے جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کی صورت میں اپنا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے اگلے روز کہا کہ اگر امریکا ایسا کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کو اس پر پچھتانا پڑے گا۔

انھوں نے اتوار کو ایک نشری تقریر میں کہا کہ ’’ ہم نے جوہری سمجھوتے کے بارے میں صدر ٹرمپ کے فیصلے کی مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔اگر امریکی جوہری ڈیل سے نکل جاتے ہیں تو انھیں اس پر تاریخی طور پر پچھتاوا ہوگا‘‘۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 اکتوبر 2017کو ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد طے شدہ تاریخی جوہری سمجھوتے کی تصدیق سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو سرے سے ختم ہی کیا جا سکتا ہے۔ وہ گذشتہ سال جنوری میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے اس کو ختم کرنے کے اعلانات کرتے آ رہے ہیں ۔