.

معاہدے سے ایران کے بدنام زمانہ توسیعی منصوبہ کو بڑھاوا ملا: امریکا میں سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان پر اپنا فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے نے ایران کی نظریاتی مہمات کو مشرق وسطیٰ میں توسیع دینے میں معاونت کی۔

امریکی صدر نے منگل کے روز معاہدے سے دسبترداری کے اعلان میں اس امر کا اظہار کیا کہ ان کا ملک 2015 کے معاہدے کے تحت اٹھائی جانے والی تمام پابندیوں کو دوبارہ لاگو کر دے گا۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے اپنے ایک پہلے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم آٹو پائیلٹ جیسی صورتحال میں ایک پہاڑ کی سمت بڑھ رہے ہیں۔ اس معاہدے نے ایران کی بدنام زمانہ توسیع پسند سوچ کو بڑھاوا دینے میں مدد کی۔ معاہدے نے ایران کو مالی سہارا دیا جسے خطے میں تناو اور افراتفری پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔

اپنے ٹویٹر پیغام میں انھوں نے مزید کہا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد ایران نے بین الاقوامی برادری کے ذمہ دار ملک کے طور پر ردعمل دینے کے بجائے وہاں کی حکومت نے دہشت گردی کے لئے اپنی حمایت میں دوگنا اضافہ کر دیا۔ انھوں نے بیلسٹک میزائل جیسے خطرناک ہتھیار حوثیوں جیسی دہشت گرد بے نامی تنظیموں کے حوالے کرنا شروع کر دیے تاکہ وہ یمن سے سعودی عرب کے نہتے شہریوں کو نشانہ بنا سکیں۔