.

اسکینڈل: برطانوی وزیر داخلہ کا خاندان پاکستان میں ویزے فروخت کرتا رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی تاریخ میں وزیر داخلہ کے منصب پر پہنچنے والے پہلے مسلمان ساجد جاوید (پاکستانی نژاد) کے بارے میں ایک تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ساجد کے خاندان کا پاکستان میں ایک دفتر ہے جو تارکین وطن کو برطانیہ بھجواتا ہے اور ان کے لندن کے ویزوں کے لیے مطلوبہ دستاویزات بھی تیار کر کے دیتا ہے۔

ساجد جاوید نے گزشتہ ہفتے برطانیہ کے وزیر داخلہ کا منصب سنبھالا تھا۔ ان کا تعلق برطانیہ ہجرت کرنے والے ایک پاکستانی گھرانے سے ہے۔ ساجد کے والد برسٹل شہر میں ایک پبلک بس کے ڈرائیور ہیں۔ ساجد پہلی مرتبہ 2010ء میں کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔

اخبار کی طویل رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نئے وزیر داخلہ کے دو چچا پاکستان میں ایک کمپنی چلاتے رہے ہیں جو برطانیہ ہجرت کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے برطانوی ویزوں کا انتظام کرتی ہے۔

البتہ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی پاکستان میں لوگوں سے مال بٹورنے کے لیے انہیں دھوکہ دیتی تھی اور وہ لوگوں سے صرف برطانیہ میں داخلے کے لیے مطلوب کاغذات کے حصول کا وعدہ کیا کرتی تھی۔ مذکورہ دو چچاوں میں سے ایک شخص پاکستانیوں کو پیش کرتا تھا کہ وہ ویزے اور قیام کی اجازت کے حصول کے لیے برطانوی شہریت کی حامل خواتین سے شادی میں مدد کرے گا۔ اس کے عوض وہ لوگوں سے بھاری رقم بھی اینٹھتا کرتا تھا۔

تاہم برطانوی اخبار سے گفتگو کرنے والے گاہکوں نے بتایا کہ انہیں دھوکے اور فریب کے ذریعے لُوٹا گیا۔ ان لوگوں نے ساجد جاوید کے رشتے داروں کو برطانیہ کے ویزے حاصل کرنے کے واسطے مالی رقوم ادا کیں مگر انہیں کچھ نہ ملا۔ ان میں ایک شخص نے بتایا کہ رقم کے عوض اسے "فرضی کاغذات" تھما دیے گئے۔

اخبار کے مطابق یہ معلومات نئے وزیر داخلہ کے لیے شرمندگی کا باعث بنیں گی جن کو سابقہ خاتون وزیر کی جگہ اس منصب پر فائز کیا گیا تا کہ غیر قانونی مہاجرین کے حوالے سے پالیسی پر سختی سے کاربند رہا جا سکے۔ واضح رہے کہ سابقہ وزیر داخلہ کے مستعفی ہونے کی بنیاد پارلیمنٹ کا یہ خیال تھا کہ انہوں نے مذکورہ پالیسی کے حوالے سے پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق ساجد جاوید کے جو دو چچا پاکستان میں ان سرگرمیوں کے حوالے سے دفتر چلاتے تھے ان میں ایک کا نام عبدالمجید ہے۔ اس نے پاکستان میں ہی زندگی گزاری اور سات برس قبل فوت ہو گیا۔ اس کے بھائی اور ساجد کے دوسرے چچا کا نام عبدالحمید ہے جس کی عمر 69 برس ہے۔ وہ ان دنوں لندن سے 190 کلو میٹر مغرب میں واقع شہر برسٹل میں رہ رہا ہے۔

عبدالحمید نے ڈیلی میل اخبار کو بتایا کہ وہ برطانیہ آنے والے طلبہ کے لیے بہت کم تعداد میں اسٹوڈنٹ ویزا نکلوانے میں کامیاب ہو سکا۔ تاہم اس نے اس سلسلے میں پاکستان میں چلائی جانے والی کمپنی کے معاملات میں جھوٹ بولے جانے کی سختی سے تردید کی۔

پاکستان کے قصبے لسوڑی جہاں ساجد جاوید کا خاندان رہتا ہے، وہاں کے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس خاندان کے دو افراد 90ء کی دہائی کے دوران برطانیہ کے ویزے دلوانے کا کام کرتے تھے اور 2006ء میں ان دونوں نے (UK Study)کے نام سے ایک کمپنی قائم کی۔

ڈیلی میل کے مطابق اس کمپنی نے طلبہ کو برطانیہ کے ویزوں میں حصول کے لیے معاونت فراہم کرنے کے علاوہ انگلش لینگویج کورسز کا بھی انتظام کیا۔

اخبار نے تین افراد سے گفتگو کی جنہوں نے ساجد جاوید کے چچا عبدالحمید کو رقم ادا کی تاہم انہیں معاہدے میں طے شدہ کوئی بھی دستاویز نہیں ملی۔ ان متاثرہ افراد میں ایک 70 سالہ مقامی کسان بھی شامل ہے جس نے ویزے کے حصول کے لیے اپنا ٹریکٹر بیچ ڈالا۔ اس نے عبدالحمید اور عبدالمجید کو برطانیہ کے ویزے کی فیس کے طور پر 25 ہزار روپے (160 پاونڈز) ادا کیے تاہم دونوں بھائیوں نے اسے چند کاغذات تھما دیے جو بعد میں "جعلی" نکلے۔

برطانوی اخبار نے ایک 78 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر سے بھی گفتگو کی۔ اس ٹیچر نے 2006ء میں ساجد جاوید کے چچاؤں کو 1270 پاونڈ کی رقم ادا کی تاہم اسے ویزا نہیں مل سکا اور نہ رقم واپس ہوئی۔

واضح رہے کہ برطانوی اخبار کی جانب سے شائع کردہ معلومات برطانوی وزیر ساجد جاوید کی طرف سے کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی نہیں ہے۔ یہ ان کے لیے محض "شرمندگی" کا باعث ہے۔ یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ ساجد کے چچاؤں نے برطانوی قانون کی کسی طور خلاف ورزی کی ہے۔ علاوہ ازیں ساجد جاوید اپنے خاندان کے کسی فرد کی جانب سے دنیا میں کسی مقام پر مرتکب فعل کے ذمّے دار نہیں۔