.

ترک پراسیکیوٹرز فوجی بغاوت کے سرغنہ کمانڈروں کو لمبی قید کی سزائیں دلانے کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پراسیکیوٹرز نے 2016ء میں ناکام فوجی بغاوت میں ملوّث دو سو سے زیادہ افراد کو عمرقید کی سزائیں دینے کی استدعا کی ہے ۔ان مشتبہ افراد میں ترک فوج کے بعض سابق جرنیل بھی شامل ہیں اور انھوں نے صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے لیے فوجی بغاوت برپا کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق پراسیکیوٹرز نے فضائیہ کے سابق کمانڈر آکین اوز ترک اور دوسرے باغی لیڈر وں کو بامتبق عمر قید کی سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان مشتبہ افراد کے خلاف ریاست مخالف جرائم ، ایک مسلح دہشت گرد گروپ کی قیادت کرنے، صدر رجب طیب ایردوآن کے قتل کی سازش اور 249 افراد کی ہلاکتوں کے الزامات میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں ۔

حکومت کے خلاف اس ناکام فوجی بغاوت میں ملوّث افراد کے خلاف مختلف عدالتوں میں مقدمات زیر سماعت ہیں ۔صدر ایردوآن کی حکومت نے امریکا میں مقیم ترک دانشور فتح اللہ گولن کے پیروکارں پر اس بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا لیکن و ہ اس الزام کی تردید کر چکے ہیں ۔