.

سعودی عرب امریکا کی جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے بعد تیل مارکیٹ کی معاونت کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے امریکا کی ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ مملکت تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے رکن اور غیر رکن ممالک کے علاوہ بڑے صارفین کے ساتھ مل کر تیل کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرے گی ،تاکہ امریکا کی جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے بعد تیل کی مارکیٹ پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہ ہوں ‘‘ْ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایران کے ساتھ جولائی 2015ء میں طویل مذاکرات کے بعد طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیر باد کہہ دیا ہے اور ایران کے خلاف عاید پابندیوں کو بھی بحال کردیا ہے۔ان پابندیوں کے ایران کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔

2015ء کے آخر میں جب ایران پر عاید جوہری سمجھوتے کے نتیجے میں مختلف پابندیاں ہٹائی گئی تھیں تو اس سے پہلے ایران صرف دس لاکھ بیرل یومیہ خام تیل برآمد کررہا تھا۔وہ زیادہ تر ایشیائی اور یورپی ممالک کو خام تیل بیچ رہا تھا۔ان پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے اس کی تیل کی برآمد ات بڑھ کر 25 لاکھ بیرل یومیہ ہوچکی ہیں ۔

سعودی عرب اس وقت ایک کروڑ بیرل یومیہ تل نکال رہا ہے لیکن وہ ایک کروڑ بیس لاکھ بیرل یومیہ تیل نکالنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔سعودی وزارت تیل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ مملکت تیل کی عالمی مارکیٹ میں استحکام اور تیل پیدا کرنے والے ممالک اور صارفین کے مفادات کے تحفط کے لیے پُر عزم ہے‘‘۔