وزارت خزانہ ایران کو طیارے برآمد کرنے کے پرمٹس منسوخ کر دے گی : امریکی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سینئر امریکی عہدے دار نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علاحدگی کے فیصلے کے بعد وزارت خزانہ ایران کو برآمدات سے متعلق اُن اجازت ناموں کو منسوخ کر دے گی جو اس وقت شہری ہوابازی کی کمپنیوں کے پاس ہیں۔

وزارت خارجہ کے مذکورہ سینئر عہدے دار نے منگل کے روز اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ "پہلے 90 روز کے دوران وزارت خزانہ مخصوص پرمٹس کو منسوخ کر دے گی جو شہری ہوابازی سے متعلق خصوصی اجازت ناموں کی پالیسی کے تحت جاری کیے گئے تھے"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ "وزارت خزانہ نجی سیکٹر کی کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں رہے گی اور باقاعدہ صورت میں ان پرمٹس کو منسوخ کرنے پر کام کرے گی"۔

دوسری جانب ایئربس کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ حرکت میں آنے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے دست برداری کے فیصلے پر غور کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے لیے وقت درکار ہے اور آئندہ اقدامات کمپنی کی اندرونی پالیسی اور برآمدات سے متعلق پابندیوں اور نگرانی کے قوانین کی مکمل پاسداری کے مطابق ہوں گے۔

ایرانی فضائی کمپنی (ایران ایئر) نے 38.3 ارب ڈالر مالیت کے 200 مسافر طیاروں کا آرڈر دیا تھا۔ ان میں 100 طیارے ایئربس سے ، 80 بوئنگ سے اور 20 اے ٹی آر کمپنی سے طلب کیا گئے۔ یہ تمام سمجھوتے امریکی پرمٹس کے مرہون ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں