وڈیو : لندن میں نوجوان لڑکی پر تیزاب سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لندن کے جنوب میں واقع علاقے Brixtonمیں نامعلوم شخص پبلک ٹرانسپورٹ کی بس میں ایک نوجوان لڑکی پر تیزاب پھینک کر فرار ہو گیا۔ واضح رہے کہ 4 روز کے اندر یہ برطانوی دارالحکومت میں دن دیہاڑے ہونے والی 9 ویں مجرمانہ کارروائی ہے۔

واقعے کے بعد متاثرہ لڑکی مذکورہ علاقے میں تجارتی مرکزReliance Arcade کے ساتھ واقع میٹرو اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ اس موقع پر سکیورٹی اہل کاروں نے ایک چادر نما بڑے سے کپڑے کا انتظام کر کے لڑکی کو اس کے اندر چھپا دیا تا کہ وہ تیزاب سے متاثرہ کپڑے اتار دے۔ اس دوران وہاں موجود خواتین اہل کاروں نے کپڑوں سے جان چھڑانے میں لڑکی کی مدد کی اور پھر اسے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ا

زاں معلوم ہوا کہ تیزاب نے لڑکی کے چہرے سمیت کسی حساس جگہ کو متاثر نہیں کیا تھا اور اس کی حالت خطرے میں نہیں۔

عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر ابتدائی تحقیقات سے واضح ہوا ہے کہ جس لڑکی پر تیزاب چھڑکا گیا وہ ہی اس کارروائی میں اصل ہدف تھی۔ برطانوی اخبار "دی ٹائمز" سمیت مقامی ذرائع ابلاغ نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ بے سوچے سمجھے تیزاب پھینکنے کا واقعہ نہیں تھا۔

بس کے اندر موجود عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم شخص کی جانب سے تیزاب پھینکے جانے کے بعد لڑکی تکلیف سے چلاتی ہوئی بس سے اتر گئی۔ اس موقع پر سڑک پر پیدل چلنے والے بعض افراد نے اپنے پاس بوتلوں میں موجود پانی لڑکی پر ڈالا تا کہ اس کو محسوس ہونے والی تکلیف کم کی جا سکے۔

لندن میں مجرمانہ کارروائیوں نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ تین روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹوئیٹر پر اس حوالے سے اظہار خیال کیا تھا۔ اتوار کے روز لندن میں دو مختلف مقامات پر 13 اور 15 سالہ لڑکوں کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تیسرے مقام پر فائرنگ سے ایک سترہ سالہ نوجوانRhyhiem Barton ہلاک ہو گیا۔

جنوبی لندن میں ہفتے اور اتوار کے روز تیزاب سے حملے کے علاوہ فائرنگ کے چار اور چاقو سے حملے کے دو واقعات پیش آئے۔ لندن کے میئر صادق خان نے پیر کے روز ایک بیان میں برطانوی حکومت کو ملامت کا نشانہ بنایا جس نے پولیس کے بجٹ میں ایک ارب پاؤنڈ کی کمی کر دی ہے۔ میئر کے مطابق بجٹ میں کمی کی وجہ سے ایک کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر میں تشدد کی کارروائیاں پھیل گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں