ایران پر نئی امریکی پابندیوں کا نفاذ پیش آئند ہفتے ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکومت کے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں آئندہ ہفتےعاید کی جائیں گی۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ ایران جوہری ہتھیارتیار نہ کرنے کی ضمانت فراہم کرے گا۔

وائیٹ ہاؤس کی طرف سے یہ بیان امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے سنہ 2015ء میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان ’سارہ سانڈرز‘ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ سو فی صد یقین دہانی کراتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایران پر آخری درجے تک پابندیوں کے ذریعے دباؤ ڈالیں گے۔ معاہدے سے پہلے عاید کردہ تمام پابندیاں بحال کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہم اضافی پابندیاں بھی عاید کریں گے۔

درایں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے کے لیے مذاکرات کرے ورنہ اس کے خطرناک نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے اور تہران پر نئی پابندیوں کے نفاذ کے بعد کیا۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوہری پروگرام پردوبارہ کام شروع کیا تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔ جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ایران کی طرف سے جوہری سرگرمیوں پر کام شروع ہونے پر واشنگٹن کیا کرے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس کا پتا اسی وقت چلے گا جب وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں ایرانیوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو بند کریں۔ ابھی یہ مشورہ زبانی ہے۔ ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں