سعودی عرب تیل کی عالمی مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنائے گا: وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی عرب نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ امریکا کے ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قلّت سے بچاؤ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

سعودی عرب کے توانائی ، قدرتی وسائل اور صنعتوں کے وزیر خالد الفالح نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’وہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ( اوپیک ) کی صدارت ، روس اور امریکا سے قریبی رابطے میں ہیں اور وہ آیندہ چند روز میں تیل پیدا کرنے والے اور بڑے صارف ممالک سے بھی رابطے کریں گے تاکہ تیل کی مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنایا جاسکے‘‘۔

قبل ازیں سعودی عرب کی تیل کی وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ مملکت اوپیک کے رکن اور غیر رکن ممالک کے علاوہ بڑے صارفین کے ساتھ مل کر تیل کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی ،تاکہ امریکا کی جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے بعد تیل کی مارکیٹ پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہ ہوں ‘‘ْ۔

سعودی عرب اس وقت ایک کروڑ بیرل یومیہ خام تل نکال رہا ہے لیکن وہ ایک کروڑ بیس لاکھ بیرل یومیہ تیل نکالنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔سعودی وزارت تیل کا بیان مزید کہنا تھا کہ ’’ مملکت تیل کی عالمی مارکیٹ میں استحکام اور تیل پیدا کرنے والے ممالک اور صارفین کے مفادات کے تحفط کے لیے پُر عزم ہے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے جوہری سمجھوتے سے الگ ہونے اور اس کے خلاف نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد بدھ کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں تین فی صد اضافہ ہوا تھا اور نومبر 2014ء کے بعد پہلی مرتبہ تیل کی قیمت 77.20 ڈالرز فی بیرل ہوگئی تھی۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.90 ڈالرز فی بیرل اضافہ ہوا تھا اور یہ 70.96 ڈالرز فی بیرل ہوگئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی اعلان کردہ پابندیوں کے نفاذ میں کم سے کم 180 دن لگ جائیں گے ۔اس لیے ایران کی تیل کی برآمدات پر اس سال کے آخر اور 2019ء کے اوائل میں اثرات مرتب ہوں گے۔اس سے پہلے اس کے خریدار ممالک کو تیل سپلائی جاری رہے گی۔

تجزیہ کاروں کے بہ قول امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی تیل کی برآمدات میں نصف تک کمی واقع ہوگی ۔ایشیائی ممالک کے تیل صاف کرنے کے بیشتر کارخانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کی سپلائی کے متبادل پر غور شروع کردیا ہے۔

مٹسوبشی یو ایف جے ریسرچ اور کنسلٹینسی کے سینیر ماہر معیشت ٹومو میشی اکوٹا کا کہنا ہے کہ اس وقت تیل کی طلب اور رسد میں ایک طرح کا توازن پایا جاتا ہے۔ اگر ایران پر نئی پابندیاں عاید ہوتی ہیں تو مارکیٹ میں رسد میں مکمل کمی واقع ہوجائے گی ۔اس سے تیل کی قیمت میں 10 ڈالرز تک اضافہ ہوسکتا ہے اور برینٹ نارتھ کی فی بیرل قیمت 90 ڈالرز تک بڑھ سکتی ہے‘‘۔

2015ء کے آخر میں جب جوہری سمجھوتے کے نتیجے میں ایران پر عاید مختلف پابندیاں ہٹائی گئی تھیں تو اس سے پہلے وہ صرف دس لاکھ بیرل یومیہ خام تیل برآمد کررہا تھا۔وہ زیادہ تر ایشیائی اور یورپی ممالک کو خام تیل بیچ رہا تھا۔ان پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے اس کی تیل کی برآمد ات بڑھ کر 25 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں