شیخ سلطان کی امریکا کی جوہری سمجھوتے سے دستبرداری سے متعلق قطر کے موقف پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

قطر کے شاہی خاندان کے رکن شیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے امیر شیخ تمیم بن حمد کی حکومت کے امریکا کے ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بارے میں موقف پر تنقید کی ہے۔

شیخ سلطان نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’ امریکا کی جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے بعد حمد رجیم کی جانب سے ایران کی طرف داری یہ ثابت کرتی ہے کہ قطری حکام ہمارے عوام کو ایران کے مفادات کی قیمت پر ایک کنفیوژ موقف میں الجھا رہے ہیں ۔ انھوں نے قطر کو ایرانی رجیم کے ہاتھوں میں کھلونا بنا دیا ہے‘‘۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’حمد رجیم ایرانی دھمکیوں کے مقابلے کے لیے عرب منصوبے کا ساتھ دینے کے بجائے ایران کے ساتھ کھڑا ہے لیکن آخر کب تک ہمارے ملک کو اس طرح مضحکہ خیز مفادات کے نام پر یرغمال بنایا جاتا رہے گا‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کا اعلان کردیا تھا ۔قطری وزارت خارجہ نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوسرے خلیجی ممالک کی طرح قطر اس ڈیل کا حصہ نہیں تھا لیکن سمجھوتے کے فریقوں کے ساتھ تاریخی اور سیاسی تعلقات اور جغرافیائی محل وقوع کے پیش نظر اس کو ان فریقوں کے فیصلوں کے مضمرات کے بارے میں براہ راست تشویش لاحق ہے‘‘۔

اس نے مزید کہا کہ ’’ قطرکی اولین ترجیح مشرقِ وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا اور علاقائی طاقتوں کو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شریک ہونے سے روکنا ہے۔عالمی برادری کے فریم ورک کے تحت خطے میں جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کو روکنے کے لیے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت ہے‘‘۔

قطری وزارت خارجہ نے مزید کہا : ’’ یہ بات تمام فریقوں کے مفاد میں ہے کہ وہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں اور صورت حال سے دانش مندی سے نمٹنے اور موجودہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کریں ‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں