.

برلن میں امریکی سفیر کی ٹویٹ جرمنی میں ایک نئے تنازع کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں تعینات امریکا کے نئے سفیر رچرڈ گرینیل کی ایک ’ٹویٹ‘ نے جرمنی میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ ان کی ٹویٹ کو بعض لوگوں نے پسند کیا ہے جب کہ بہت سے لوگ انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق سفارتی اسناد کی حوالگی کی تقریب کے بعد ایک ٹویٹ میں امریکی سفیر نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ پر لکھا کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی اور جاندار اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بہتر ہے کہ ایران میں کام کرنےوالی جرمن کمپنیاں بھی اپنے منصوبے روک دیں۔

ان کی اس ٹویٹ کو 7 ہزار 64 بار ری ٹویٹ کیا گیا جب کہ 21 ہزار نے پسند اور 2452 نے اس پر تبصرے کیے ہیں۔

امریکی سفیر کی ٹویٹ پر جرمن حکومت کے ترجمان سے رائے لینے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر امریکی سفیر کے بیان کو بیشتر لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین میں میونخ ڈپلومیٹک امن کونس کے سابق چیئرمین فولففائنگ ایچنیگر بھی شامل ہیں۔

رچرڈ گرینیل کی ٹویٹ کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ ’ایک سفیر کے طور خدمات انجام دینے کے طویل تجربے کے بعد میں اس نتیجے تک پہنچا ہوں کہ کسی سفیر کو میزبان ملک کی لابی پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگرآپ مسائل کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ میزبان ملک کواس کی پالیسی پر چلنے دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جرمن آپ کی بات ضرور سنیں گے مگر ضروری نہیں کہ وہ ان پر عمل درآمد بھی کریں۔

خیال رہے کہ گرینیل نے برلن میں تعیناتی اور سفارتی اسناد کی حوالگی کی تقریب کے بعد برلن میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کا بھی دورہ کیا۔ ان کے اس دورے پر بھی سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا سامنا ہے۔