.

روس کے جدید ہتھیار: روبوٹ ٹینک اور میزائل داغنے والا ڈرون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے کی جانب سے اپنے نئے روبوٹ ٹینک کا انکشاف کیا گیا ہے جس کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ماسکو میں "Victory Day" کے موقع پر منعقد کی جانے والی عسکری پریڈ میں دیگر جدید ترین ہتھیاروں کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ وکٹری ڈے 1945ء میں دوسری جنگ عظیم میں جرمن نازیوں کی ہزیمت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

روس کے مذکورہ ٹینک کا نام Uran-9 ہے اور اسے توپ ، ٹینک شکن میزائل اور خود کار بندوق سے لیس کیا گیا ہے۔ روس کا دعوی ہے کہ شامی اراضی میں عسکری کارروائیوں کے دوران اس ٹینک کا تجربہ کیا گیا۔ یہ ٹینک زمین سے فضا میں مار کرنے والے کئی میزائل رکھ سکتا ہے۔ اس طرح فوجی ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں کے خطرے سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔

روس کے نائب وزیر دفاع یوری بوریسوف نے مقامی اخبار "گازیٹا" کو بتایا کہUran-9 ٹینک کو تقریبا 3 کلو میٹر کی دُوری سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ Uran-6کو بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا جو بارودی سرنگیں صاف کرنے والا ایک روبوٹک نظام ہے۔ اس نظام کو شام میں تدمر، حلب وار دیر الزور میں استعمال کیا گیا۔ بوریسوف کے مطابقUran-6 کو ایک کلو میٹر کی دُوری سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

عسکری پریڈ میں ڈرون طیارہKorsar اور ڈرون ہیلی کاپٹر Katran کو بھی پیش کیا گیا۔

ڈرون طیارہ Korsar جاسوسی کا عمل انجام دینے کے ساتھ میزائل داغنے اور عسکری امداد منتقل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مسلسل 10 گھنٹے اڑ سکتا ہے۔ اس کی اڑان کی انتہائی بلندی 20 ہزار فٹ ہے اور یہ 160 کلو میٹر سے زیادہ فاصلے تک جا سکتا ہے۔

روس دیگر عسکری ساز و سامان بھی منظر عام پر لایا ہے۔ ان میں Su-57 ساخت کا جدید ترین اسٹیلتھ طیارہ اور Kinzhal میزائلوں سے لیس MiG-31 طیارہ شامل ہے۔

سال 2015ء میں روس نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے 70 برس پورے ہونے پر اپنی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی عسکری پریڈ کا انعقاد کیا تھا۔ پریڈ میں 16000 فوجیوں، 200 فوجی گاڑیوں اور 150 طیاروں نے شرکت کی تھی۔

سال 2017ء کی پریڈ میں 10 ہزار سے زیادہ فوجیوں نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ ٹینکوں اور بین البراعظمی میزائلوں کو بھی منظر عام پر لایا گیا۔