عصمت ریزی پرشوہر کو قتل کرنے والی خاتون کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کی ایک شرعی عدالت نے اپنی نوعیت کے ایک منفرد مقدمہ میں اپنے ہی شوہر کی قاتل اس کی بیوی کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ 19 سالہ نورہ حسین پر الزام ہے کہ اس نے جبری شادی کو مسترد کرتے ہوئے شوہر کو آبرو ریزی کا قصور وار قرار دے کر قتل کر دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خرطوم کی ایک شرعی عدالت نے نورہ حسین کو اپنے شوہر کو قتل کرنے کے جرم میں قید کی سزا سنائی۔ مقامی میڈیا کے مطابق نورہ حسین کا کہنا ہے کہ اس کے والدین نے تین سال قبل جب وہ سولہ سال کی تھیں تو اس کی شادی اس کے چچا زاد کے ساتھ کرانے کی کوشش کی۔ وہ اس شادی کے خلاف تھی اور بھاگ کر ایک دوسرے رشتے دار کے پاس چلی گئی۔ اس کے والدین نے اسے منایا اور یقین دلایا کہ اب وہ اس کی شادی اس شخص سے نہیں کرائیں گے، مگر واپس لانے کے بعد انہوں نے جبرا اس کے ساتھ نکاح پڑھا دیا۔ شادی کے بعد شوہر نے اس کے قریب آنے کی ایک بار کوشش کی مگر نورہ نے اسے قریب نہ آنے دیا۔ اس نے دوبارہ کوشش کی جس پر دونوں میں جھگڑا ہوا۔ نورہ نے اپنے ہی شوہر کو آبرو ریزی کا قصور وار قرار دیتے ہوئے تیز دھار آلے کے وار سے اسے قتل کر دیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدرعمر البشیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قاتل لڑکی سزا معاف کر دیں۔ یہ شادی اس کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی اور اسے اپنے ناموس کے دفاع کا حق تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں