.

ملائشیا : نجیب رزاق انتخابات میں شکست کے بعد سابق حکمراں جماعت کی قیادت سے دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا کے شکست خوردہ رہ نما اور سابق وزیراعظم نجیب رزاق نے اپنی جماعت اُمنو (یونائیٹڈ مالے نیشنل آرگنائزیشن ) اور بیرسان قومی اتحاد کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

نجیب رزاق کی جماعت کو ملائشیا میں بدھ کو منعقدہ عام انتخابات میں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ میں نے اُمنو کے صدر اور بیرسان نیشنل اتحاد کے چئیرمین کا عہدہ فوری طور پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ اگر جماعت کو عام انتخابات میں شکست ہوئی ہے تو اس کے لیڈر کی یہ اخلاقی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہوجائے۔اس لیے اس اصول کی بنا پر میں نے دونوں عہدے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

نجیب رزاق نے یہ بھی اعلان کیا کہ اب سابق نائب وزیراعظم احمد زاہد حمیدی اُمنو کے صدر کی حیثیت سے ذمے داریاں سنبھالیں گے۔

سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی قیادت میں حزب اختلاف کے اتحاد نے بیرسان قومی اتحاد کو پارلیمانی انتخابات میں بدترین شکست سے دوچار کیا ہے۔ متحدہ مالے قومی تنظیم گذشتہ چھے سال سے ملائشیا میں برسراقتدار چلی آرہی تھی۔

مہاتیر محمد کی عمر اس وقت 92 سال ہے۔وہ دنیا کے سب سے عمر رسیدہ منتخب لیڈر بن گئے ہیں ۔ وہ دوعشرے تک حکمرانی کے بعد 2003ء میں وزارت ِ عظمیٰ سے ریٹائر ہوگئے تھے اور انھوں نے عملی سیاست بھی کنارہ کشی کر لی تھی لیکن پندرہ سال کے بعد انھوں نے نجیب حکومت کی بدعنوانیوں کے خلاف دوبارہ عملی سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور اپنے سابق اتحادی اور نائب نجیب رزاق کے مدمقابل انتخابی اتحاد تشکیل دیا اور اس کو شکست سے دوچار کیا ہے۔عام انتخابات میں شکست کے بعد نجیب رزاق اور ان کی اہلیہ کے بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔