.

یمن میں شیرخوار بچی کو یتیم خانے بھجوانے قبائلی جرگے کا انوکھا فیصلہ

والدین زندہ مگر بچی یتیم قرار دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قبائلی جرگوں میں طے پانے والے بہت سے فیصلے متنازع سمجھے جاتے ہیں یمن میں قبائلی رہ نماؤں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو اپنی نوعیت کا انسانی تاریخ کا عجیب وغریب واقعہ ثابت ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس عجیب وغریب واقعے کی تفصیلات یہ ہیں یمنی دارالحکومت صنعاء میں کوئی دو ہفتے ایک اسپتال میں ایک ہی وقت میں دو خواتین نے بچیوں کو جنم دیا۔ ان میں سے ایک بچی کچھ دیر کے بعد انتقال کرگئی جب کہ اسی وقت میں پیدا ہونے والی ننھی ’لیان‘ دونوں خاندانوں میں جھگڑے کا موجب بن گئی۔

طبی عملہ اپنی لاپرواہی سے یہ فرق رکھنے میں ناکام رہا کہ فوت ہونے والی بچی کس خاتون کی تھی اور بچ جانے والی کس کی ہے۔

چنانچہ دونوں خاندانوں کےدرمیان جھگڑا شروع ہوگیا جس میں نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ دونوں بچی کی ملکیت کے دعوے دار تھے۔ معاملہ قبائلی عمائدین تک پہنچا۔ انہوں نے اس کا انوکھا حل نکالا۔ انہوں نے بچی کا نسب معلوم کرنے کے لیے ’ڈی این اے‘ اور جدید سائنسی طریقہ کار اپنانے کے بجائے بچی کو پہلے صنعاء اور وہاں سے شمالی یمن میں قائم اب گورنری میں ایک یتیم خانے بھجوا دیا۔ یوں والدین زندہ ہونے کے باوجود بچی یتیم قرار دی گئی اور دونوں خاندان بچی سے بھی محروم بھی ہو گئے۔

اس واقعے اور قبائلی فیصلے پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسپتال کےعملے کو چاہیے کہ وہ بچی کا ڈین این اے کے ذریعے والدین کا نسب معلوم کر کے اسے اس کے والدین کے حوالے کرے۔