.

ایران اور قطر کی مشترکہ اقتصادی کمیٹی کا دوحہ میں چھٹا اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ستر ماہرین اور کاروبای شخصیات پر مشتمل ایک وفد قطر کے ساتھ مشترکہ اقتصادی کمیٹی کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کے لیے دوحہ پہنچا ہے۔ وفد کی قیادت ایران کے نائب وزیر صنعت اور معدنیات محمد رضا فیاض کررہے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان بہت سے تصفیہ طلب امور پر غور کیا جائے گا۔محمد رضا فیاض نے ارنا کو بتایا ہے کہ پانچ مشترکہ کمیٹیوں کے خصوصی اجلاس ہوں گے اور ان میں تجارت ، معدنیات ، کسٹمز ، تیل ، پیٹرو کیمیکلز ، برآمدات اور بنک کاری کے شعبوں میں تعاون کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر غور کیا جائے گا‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ ایران اور قطر کے درمیان قریبی تعاون ایک نئی سمت اختیار کررہا ہے اور یہ دونوں ممالک میں تعلقات کی مضبوطی کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔قطر کے ساتھ تجارت کا حجم اگرچہ بہت تھوڑا ہے لیکن مناسب منصوبہ بندی کے بعد دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ حاصل ہوگا‘‘۔

نائب وزیر کا کہنا تھا کہ ’’ ایر ان اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں کوئی سنجیدہ رکاوٹ حائل نہیں ہے اور انھیں توقع ہے کہ منصوبہ بند پروگراموں کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے جائیں گے‘‘۔

ارنا کے مطابق ایران اور قطر کے درمیان مشترکہ اقتصادی کمیٹی کا یہ چھٹا اجلاس ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ سال جون میں دہشت گردی مخالف چار ممالک کے بائیکاٹ کے بعد قطر کی ایران سے قُربت میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اس کے ساتھ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کےلیے کوشاں ہے۔

سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر پر خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی اور حمایت کا الزام عاید کیا تھا اور اس سے سفارتی ، سیاسی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔ یہ ممالک ایران کو بھی خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا پشتیبان ملک قرار دیتے ہیں اور اس پر عراق ، شام ، یمن اور بحرین سمیت خطے کے ممالک کے داخلی امور میں کھلی مداخلت کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔