.

ایران سے کاروبار پر یورپی فرموں پر امریکی پابندیاں عاید ہوسکتی ہیں : جان بولٹن

یورپ ابھی تک صدر ٹرمپ کے 8 مئی کے اقدام کو ہضم کرنے کی کوشش کررہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی یورپی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں جبکہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کا ایران کے ساتھ ایک نیا جوہری سمجھوتا طے پا سکتا ہے۔

جان بولٹن نے اتوار کو ان خیالات کا اظہار سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ان سے سوال پوچھا گیا تھا کہ اگر یورپی کمپنیاں ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھتی ہیں تو کیا امریکا ان کے خلاف بھی پابندیاں عاید کر دے گا،اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’ یہ ممکن ہے اور اس کا انحصار دوسری حکومتوں کے طرز عمل پر ہے‘‘۔

انھوں نے اس حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ’’ میرے خیال میں یورپی اسی میں اپنا مفاد سمجھیں گے کہ وہ بھی ہمارے ساتھ آ ملیں ‘‘۔ جان بولٹن کا کہنا تھا کہ یورپ ابھی تک صدر ٹرمپ کے 8 مئی کے اقدام کو ہضم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ منگل کو ایران کے ساتھ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔انھوں نے اس اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

جان بولٹن نے کہا:’’ میرے خیال میں یورپ میں بعض محسوسات پائے جاتے ہیں ۔انھیں جوہری سمجھوتے سے ہمارے انخلا پر واقعی حیرت ہوئی ہے۔انھیں امریکا کی ایران کے خلاف سخت پابندیوں کے نفاذ پر بھی حیرت ہوئی ہے ۔میرے خیال میں یہ اثر کریں گی ۔اس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے؟‘‘

وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے بھی اتوار کو فاکس نیوز سے گفتگو کی ہے اور انھوں نے کہا کہ ’’آیندہ دنوں اور ہفتوں میں ہم ایک ایسی ڈیل پر متفق ہوسکتے ہیں جو حقیقی معنوں میں کام کرے گی اور وہ حقیقی معنوں میں دنیا کو ایران کے جوہری پروگرام اور میزائلوں سے نہیں بلکہ اس کے بُرے کردار سے بھی بچائے گی‘‘۔

صدر ٹرمپ کے مذکورہ فیصلے پر امریکا کے یورپی اتحادی ابھی تک تشویش میں مبتلا ہیں اور انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر تیل کی رسد پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور مشرق ِ وسطیٰ میں ایک نیا تنازع پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہے۔

ایران سے جوہری سمجھوتے کے فریق پانچ دوسرے ممالک برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، روس اور چین نے امریکا کی تائید اور پیروی نہیں کی ہے اور وہ بدستور سمجھوتے میں شامل ہیں ۔ایران نے بھی اس سے لاتعلقی ظاہر نہیں کی ہے۔