.

پیرس : راہ گیروں پر چاقو سے حملہ کرنے والے نوجوان کی شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں حکام نے پیرس میں راہ گیروں کو چاقو سے نشانہ بنانے والے حملہ آور کی شناخت کا انکشاف کیا ہے۔ فرانس کی عدلیہ کے ایک ذمّے دار نے اتوار کے روز بتایا کہ حملہ کرنے والا نوجوان 1997ء میں چیچنیا میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین کو حراست میں لیے جانے کے بعد ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

مذکورہ ذمّے دار نے مزید بتایا کہ حملہ آور فرانسیسی شہریت کا حامل ہے۔ تاہم حملہ آور کی شناخت کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

حملہ آور نے "الله أكبر" کا نعرہ لگاتے ہوئے چاقو کے ذریعے ایک راہ گیر کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا جس کے بعد وہ پولیس کی فائرنگ سے خود بھی مارا گیا۔

یہ واقعہ پیرس کے قلب میں واقع علاقے اوپرا میں پیش آیا جو ریستورانوں، کیفے اور مشہور دکانوں کے سبب عموما سیاحوں کی آمد و رفت کا مرکز بنا رہتا ہے۔

یاد رہے کہ سال 2015ء سے داعش اور اس کے ہمنوا افراد کی جانب سے سلسلہ وار حملوں کا نشانہ بننے کے بعد فرانس میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ان حملوں میں اب تک 240 سے زیادہ افراد کی جان جا چکی ہے۔

ادھر فرانس میں پولیس کے ترجمان روکو کونٹینٹو نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حملہ آور راہ گیروں کو چھرا مارنے کے بعد پولیس اہل کاروں کی جانب بڑھا اور اس دوران وہ چلّا کر کہہ رہا تھا کہ "میں تم لوگوں کو قتل کردوں گا، میں تم لوگوں کو قتل کر دوں گا"۔ تاہم پولیس نے گولیاں مار کر اسے ہلاک کر ڈالا۔

اس حوالے سے ایک تصویر منظر عام پر آئی ہے جس کے بارے میں ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ حملہ آور کی تصویر ہے۔ اس میں ایک داڑھی والا نوجوان کالے ٹراؤزر میں نظر آ رہا ہے اور اس کے سینے پر کوئی کپڑا نہیں ہے۔ ایک ذریعے نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ پولیس اس حملہ آور کو جانتی نہیں ہے۔