اردنی پائلٹ کو زندہ جلانے والا داعشی جلاد عراقی فوج کے قبضے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ ہفتے عراق نے ’داعش‘ تنظیم سے تعلق رکھنے والے پانچ سینیر عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان پانچوں جنگجوؤں کی گرفتاری تین ماہ کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھی۔ عراقی فوج شام ، ترکی اور عراق میں نقل وحرکت کرنے والے ان جنگجوؤں کے بارے میں انٹیلی جنس کے ذریعے معلومات جمع کرتے رہے ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

عراق کے نیشنل میڈیا سیںٹر نے گذشتہ جمعہ کو گرفتار داعشی کمانڈروں کی شناخت ظاہر کی اور بتایا کہ ان میں اردنی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو زندہ جلانے والا داعشی جلاد صدام عمر یحییٰ الجمل المعروف ’ابو رقیہ الانصاری‘ بھی شامل ہے۔ دوسرے جنگجوؤں میں محمد حسین حضر المعروف ابو سیف الشعیطی، عصام عبدالقادر عاشور الزوبعی المعروف ابو عبدالحق العراقی، عمر شہاب حماد الکربولی المعروف ابو حفص الکربولی اور البغدادی کا معاون خصوصی اسماعیل علوان سلمان العیثاوی المعروف ابو زید العراقی شامل ہیں۔

ان پانچوں جنگجوؤں کی گرفتاری کے لیے کئی آپریشنز کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں داعش کے عمر عبد حمد الفہداوی المعروف ابو طارق الفھداوی سمیت 40 جنگجو ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

عراق میں گرفتار ہونے والے پانچ داعشیوں میں ایک نمایاں نام ’صدام الجمل‘ کا ہے۔ وہ شامی شہریت رکھتا ہے اور داعش کے دور میں مشرقی فرات کو گورنر بھی رہ چکا ہے۔

تین سال قبل جب داعش نے گرفتار اردنی ہوا باز معاذ الکساسبہ کو بے رحمی کے ساتھ زندہ جلا کر قتل کردیا تو اسے قتل کرنے والوں میں ایک نام صدام الجمل کا بھی لیا جاتا تھا۔ اس نے سنہ 2013ء میں داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔

سنہ2016ء میں اس کی ہلاکت کی خبر بھی گردش کرتی رہی ہے تاہم بعد ازاں اس خبر کو غلط قرار دیا گیا تھا۔

عراقی میڈیا کے مطابق داعش کے صف اول کے کمانڈروں کی ہلاکت اور ان کی گرفتاری کے بعد تنظیم بدترین پھوٹ کا بھی شکار ہوچکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ معاذ الکساسبہ کا مرکزی قاتل صدام الجمل شام کی دیر الزور گورنری میں البوکمال شہر میں 1978ء میں پیدا ہوا۔ اس کا خاندان نو افراد پر مشتمل تھا۔

الجمل شام میں غیر قانونی طور پر تمباکو کی اسمگلنگ میں ملوث رہا ہے جس کی بناء پر اسے متعدد بار شامی پولیس نے حراست میں بھی لیا۔ سنہ 2011ء میں جب البوکمال شہر میں حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے تو اس وقت بھی اسے گرفتار کیا گیا۔ بعدا زاں رہا کر دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں