قازقستان : شام کے حوالے سے "آستانہ بات چیت" کا نواں دور شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

العربیہ کے ذرائع کے مطابق شام کے بحران کے حوالے سے آستانہ بات چیت کا نواں دور آج قازقستان کے دارالحکومت میں شروع ہو گیا جس میں سیاسی حل سے متعلق تمام فریق شریک ہیں۔

رواں برس جنوری میں روس کی جانب سے منعقد سُوشی کانفرنس برائے قومی مکالمہ کے بعد آستانہ اجلاس میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے پہلی مرتبہ آمنے سامنے ہوں گے۔ اجلاس میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا بھی شرکت کر رہے ہیں۔

اگرچہ قازقستان کی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں بات چیت کے نئے دور میں شامی بحران کے سیاسی حل سے متعلق تمام فریقوں کی شرکت کی تصدیق کی تھی تاہم آج پیر کے روز اس نے امریکی وفد کی عدم شرکت کا اعلان کیا ہے۔ بات چیت کے نویں دور میں پہلی مرتبہ عرب لیگ کے نمائندے بھی موجود ہیں۔

قازقستان کی وزارت خارجہ کے اعلان کے مطابق واشنگٹن نے شام سے متعلق آستانہ بات چیت کے نئے دور میں امریکی وفد کو بطور مبصّر بھیجنے سے منع کر دیا۔ تاہم اس عدم ارسال کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ کے ایک نائب میخائل بوگدانوف نے باور کرایا ہے کہ "آستانہ 9" میں مختلف امور زیر بحث آئیں گے۔ ان میں داعش تنظیم کی حتمی شکست کے لیے حالیہ کوششوں کو یکجا کرنا، تنازع کے فریقوں کے بیچ فائر بندی اور شا میں سیف زونز کا معاملہ شامل ہے۔ بوگدانوف کے مطابق اجلاس میں روس کی نمائندگی شام کے لیے روسی صدر کے خصوصی ایلچی الیگزینڈر لافرینٹیوو اور نائب وزیر خارجہ سرگئی فیرشینن کریں گے۔

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق روس، ترکی اور ایران کی سرپرستی میں ہونے والے آستانہ اجلاس کے پہلے روز کثیر جہتی خصوصی مشاورت ہو گی۔ بعد ازاں منگل کے روز عمومی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں