بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں ماہِ صیام کے دوران 18 سال کے بعد اعلان ِ جنگ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بھارت نے اپنے زیرِ انتظام متنازع ریاست جموں وکشمیر میں رمضان المبارک کے دوران میں 18 سال کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے فوجی مزاحمت کاروں کے خلاف کوئی کارروائیاں نہیں کریں گے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے ایک معروف مزاحمتی گروپ لشکر طیبہ نے اس اعلان کو ایک ڈراما قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

بھارت نے اس سے پہلے سنہ 2000ء میں رمضان المبارک کے دوران مقبوضہ جموں وکشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے اعلان کیا تھا ۔اس سے تین سال کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان 2003ء میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا لیکن بھارت نے مقبوضہ ریاست میں کشمیری حریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی تھیں ۔

بھارت کی وزارت داخلہ نے بدھ کو سلسلہ وار ٹویٹس میں اطلاع دی ہے کہ یہ فیصلہ مسلمانوں کے پُرامن ماحول میں رمضان کا مقدس مہینہ گزارنے کے لیے کیا گیا ہے۔وزارت نے ایک ٹویٹ میں واضح کیا ہے کہ ’’ بھارتی فوجی اگر کسی حملے کی زد میں آتے ہیں تو انھیں اس کے جواب کا حق حاصل ہے اور بے گناہ عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے بھی وہ وقتِ ضرورت کارروائی کرسکتے ہیں‘‘۔

وزارت داخلہ نے یہ اعلان مقبوضہ جموں و کشمیر کی تمام بھارت نواز سیاسی جماعتوں کے جنگ بندی کے مطالبے کے ایک ہفتے کے بعد کیا ہے۔ریاست جموں وکشمیر کی حکمراں پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے ایک اجلاس میں بھارتی حکومت پر زوردیا تھا کہ رمضان المبارک کے دوران میں مزاحمتی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے کارروائیوں کو روک دیا جائے۔

بھارت کی حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس اجلاس میں اس مطالبے کی مخالفت کی تھی لیکن اب اس کو تسلیم کرلیا ہے۔ریاست کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے رمضان میں جنگ بندی کے فیصلے کو سراہا ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ کی اس معاملے میں ذاتی مداخلت پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

لشکر طیبہ نے اس سیز فائر کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ ہماری لغت اور سوچ میں کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔ہم اس کو ایک گناہ سمجھتے ہیں اور یہ آزادی کی جدوجہد کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی بھی بے توقیری ہے‘‘۔اس نے مزید کہا کہ ’’ ہم مذاکرات کے حامی ہیں لیکن خطے میں بھارت کی مسلح افواج کی موجودگی میں یہ مذاکرات نہیں ہوسکتے ہیں ‘‘۔

مقبوضہ کشمیر کے شہریوں نے بھارت کی جانب سے جنگ بندی کے اس اعلان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو مزاحمتی لیڈروں کے ساتھ ساتھ پاکستان سے تنازع کشمیر کے حتمی حل کے لیے مذاکرات کرنے چاہییں۔

ایک اسکول استاد سجاد احمد کا کہنا ہے کہ اگر باغی اس کا جواب نہیں دیتے اور جنگ بندی کا اعلان نہیں کرتے تو پھر اس پر خوش ہونے والی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ہم ماضی کے تجربے کی بنا پر اپنے شک کا اظہار کررہے ہیں ۔ہم ماضی میں بھی اس طرح کے بہت سے اعلانات سن چکے ہیں لیکن ان کا نتیجہ مزید بد امنی اور ابتری کی صورت ہی میں نکلا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں