ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام دلانے کے لیے خط پر سات امریکی گورنروں کے دستخط

نوبل انعام کا جواز صدر ٹرمپ کی امن کوششوں کو دھچکا ، شمالی کوریا کے جنوبی کوریا سے مذاکرات منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکا کی ریاست جنوبی کیرولینا کے گورنر ہینری میکماسٹر اور بعض دوسرے ریاستی گورنروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس سال کے امن نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کی حمایت کردی ہے۔انھوں نے اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ وہ جزیرہ نما کوریا میں امن کے قیام کے لیے انقلابی کوششیں کررہے ہیں۔

میکماسٹر اور چھے اور امریکی ریاستوں کے گورنروں نے اسی ہفتے ناروے کی نوبل کمیٹی کے چیئرمین بیرٹ ریس اینڈرسن کے نام ایک خط لکھا ہے اور اس میں کہا کہ’’ ٹرمپ نے جوہری ہتھیاروں کے خلاف ایک پختہ موقف اختیار کیا ہے ۔وہ پیانگ یانگ ( شمالی کوریا کے صدر) سے ون آن ون ملاقات کو تیار ہیں۔ انھوں نے دونوں کوریاؤں اور باقی دنیا کے درمیان تعاون ، دوستی اور اتحاد کے نئے دَر وا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے‘‘۔

اس خط سے قبل امریکی ایوان نمائندگان کے اٹھارہ ری پبلکن ارکان نے صدر ٹرمپ کو باضابطہ طور پر نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔نیشنل ری پبلکن سینی ٹوریل کمیٹی نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے اور اس نے ایک ای میل کے ذریعے ’’صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام جیتنے کے لیے نامزد کریں ‘‘ مہم کی حمایت پر زوردیا ہے۔

اس تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق ان گورنروں کے نام نہیں بتائے گئے ہیں جو سرکاری طور پر نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرسکتے ہیں ۔صرف جنوبی کیرولینا کے گورنر میکماسٹر کا نام سامنے آیا ہے۔انھوں نے 2016ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخاب کے لیے مہم کی بھی سب سے پہلے حمایت کی تھی۔وہ اس وقت ریاست کے لیفٹیننٹ گورنر تھے اور جب اس ریاست کی گورنر نکّی ہیلی کو صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مقرر کیا تھا تو وہ ان کی جگہ گورنر بن گئے تھے۔

صدر ٹرمپ کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی کے خط پر دستخط کرنے والے دوسرے گورنروں میں ریاست گوام کے گورنر ایڈی بازا کالو ، میسیس پی کے گورنر فل برینٹ ، کنساس کے گورنر جیف کولیر ، الاباما کے گورنر کے آئیوی ، مغربی ورجینیا کے گورنر جیم جسٹس اور ریاست مین کے گورنر پال لی پیج شامل ہیں۔

گورنروں کا دستخط شدہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا سے یہ اطلاع ملی ہے کہ شمالی کوریا نے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر ہونے والے پہلے سے طے شدہ مذاکرات کو اچانک منوےخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔جنوبی کوریا کی یانہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا نے نصف شب کے وقت ایک فون کال کے ذریعے ملاقات منسوخ کرنے کی اطلاع دی ہے اور اس نے یہ فیصلہ امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان فضائیہ کی مشترکہ فضائی مشقوں کے ردعمل میں کیا ہے۔

جنوبی اور شمالی کوریا کے حکام کے درمیان آج بدھ کو ایک سرحدی گاؤں میں یہ ملاقات ہونا تھی اور اس میں سرحد پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے عسکری اور ریڈ کراس کی سطح پر مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پر غور کیا جانا تھا۔اس کے علاوہ کوریا جنگ کے دوران میں بچھڑ جانے والے خاندانوں کےدرمیان دوبارہ میل ملاقاتوں کے طریق کار پر بھی بات چیت کی جانا تھی۔

یانہاپ نے یہ بھی کہا ہے کہ شمالی کوریا کی کورین سنٹرل نیوز ایجنسی ( کے سی این اے) نے خبردار کیا ہے کہ آیندہ ماہ صدر کِم جونگ اُن کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی مجوزہ ملاقات بھی اب خطرے میں ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کو شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ملاقات کی منسوخی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں اور وہ صدر ٹرمپ کی 12 جون کو سنگاپور میں شمالی کوریا کے لیڈر کے ساتھ تاریخی ملاقات کے لیے تیاریاں جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں