.

امریکی پابندیوں کے بعد ایران میں کاروبار ناممکن ہوگیا : مارسک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی بڑی کنٹینر جہاز راں فرم اے پی مولر مارسک نے ایران میں اپنا کاروبار بند کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ امریکا کی ایران کے خلاف دوبارہ پابندیوں کے نفاذ کے بعد اس کے لیے وہاں کاروبار نا ممکن ہوگیا ہے۔

ڈنمارک کی اس فرم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او ) سورن سکو نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہ ’’ اگر آپ کا امریکا میں بھی کاروبار ہے تو پھر امریکی پابندیوں کے نفاذ کے بعد آپ ایران میں کاروبار جاری نہیں رکھ سکتے اور امریکا میں ہمارا وسیع کاروبار ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ میں ایران میں کاروبار بند کرنے کے ٹھیک وقت کی تفصیل تو آگاہ نہیں ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم یہ کاروبار بند کرنے جارہے ہیں ‘‘۔

مارسک کے اس اعلان سے ایک روز قبل ہی فرانس کی بڑ ی توانائی فرم ٹوٹل نے بھی ایران میں اپنا کاروبار بند کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں دوسری یورپی کمپنیوں کا ساتھ دے گی ۔یورپی کمپنیوں کے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے ان اعلانات کے بعد ان شبہات کو تقویت ملی ہے کہ آیا یورپی لیڈر ایران سے جوہری سمجھوتے اور باہمی تجارت کو بچا سکتے ہیں یا نہیں ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ایران کے ساتھ جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہنے کا ا علان کردیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عاید کردی تھیں ۔اس کے بعد سے امریکا کے یورپی اتحاد ی ایران سے جوہری سمجھوتا بچانے کے لیے گومگو کی کیفیت سے دوچار ہیں۔

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین کو ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی یورپی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔