یورپ نے امریکی پابندیاں غیر موثر بنانے کے لئے قانون سازی شروع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدے کو قائم رکھنے کے مقصد کے تحت یورپی یونین نے جمعہ کو یورپی تجارتی کمپنیوں کو ایران سے کاروبار کرنے کی صورت میں امریکی پابندیوں سے بچانے کے لیے قانونی اقدامات کرنے شروع کر دیے ہیں۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے جمعرات کو بلغاریہ میں ہونے والی ایک ملاقات میں یورپی کمیشن کو اس بارے میں قانون سازی کرنے کا اشارہ دے دیا تھا۔

کمیشن نے جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اس نے قانون میں تبدیلیاں کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا تاکہ ان امریکی پابندیوں کا سدِباب کیا جا سکے جن کا اطلاق ایران سے تجارت کرنے کی صورت میں یورپی کمپنیوں پر ہو گا۔ کمیشن کا کہنا ہے اگست کی چھ تاریخ تک جب امریکی کی طرف سے نئی پابندی لگیں گی یہ قانون نافذ العمل ہو جائے گا۔

یورپی تجارتی کمپنیوں کو کیوبا کے ساتھ تجارت کرنے کی صورت میں امریکی اقتصادی پابندیوں سے بچانے کے لیے یورپی یونین نے 1996 میں یہ قانون متعارف کروایا تھا۔ یہ قانون یورپی کمپنیوں کو جرمانوں سے مستثنٰی کرے گا اور متاثرہ فرمز کو معاوضہ ادا کرے گا۔

واشنگٹن ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر رہا ہے جو اس سے پہلے سنہ 2015 جوہری معاہدے کے تحت اٹھا لی گئی تھیں۔

یورپی کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ قانون یورپی کمپنیوں کو بچانے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’یہ یورپی یونین کا فرض ہے کہ وہ یورپی کاروباروں کو تحفظ دے اور خاص طور پر چھوٹے اور متوسط کاروباروں کو۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ قانون بیرون ملک لاگو ان پابندیوں کے لیے بنایا گیا تھا جو یورپی یونین پر اثر انداز ہوتی ہے۔

امریکی صدر نے ایران کے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ اس معاہدے میں امریکا کے علاوہ یورپی ممالک بھی شامل تھے۔

گذشتہ ہفتے امریکا نے چھ افراد اور تین کمپنیوں پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دیں کہ ان کے ایران کی عسکری فورس کے ساتھ تعلقات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں