اقوام متحدہ کی سوڈان میں خاتون کی سزائے موت کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ نے سوڈان میں پسند کی شادی نہ ہونے پر شوہر پرعصمت دری کا الزام عاید کرتے ہوئے اسے قتل کرنے والی خاتون کو پھانسی کی سزا دیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارے کو سوڈانی دو شیزہ 19 سالہ نورا حسین کو اپنے شوہر کے قتل کے جرم میں پھانسی دینے کے حکم پر گہری تشویش ہے۔ اقوام متحدہ سوڈانی حکومت سےمطالبہ کرتی ہے کہ وہ نورا حسین کو دی گئی سزا پر نظر ثانی کرے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ترجمان رافینا شمداسنی نے جنیوامیں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ سوڈان میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک، تشدد، جنسی تشدد عام بات ہے اور وہ اس اہم مسئلے کی طرف عالمی برادری کی توجہ مرکوز کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ سوڈان میں ایک انیس سالہ لڑکی کی جبری شادی کی گئی تھی جس پر اس نے اپنے شوہر کو قتل کردیا۔ سوڈان کی شرعی عدالت نے نورا حسین کو سزائے موت سنائی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سوڈانی حکومت اس سزا پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس میں نرمی کرے۔

خیال رہے کہ خرطوم کی ایک شرعی عدالت نے نورا حسین نامی ایک انیس سالہ لڑکہ کو اپنے شوہر کو قتل کرنے کے جرم میں قید کی سزا سنائی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق نورا حسین کا کہنا ہے کہ اس کے والدین نے تین سال قبل جب وہ سولہ سال کی تھیں تو اس کی شادی اس کے چچا زاد کے ساتھ کرانے کی کوشش کی۔

وہ اس شادی کے خلاف تھی اور بھاگ کر ایک دوسرے رشتے دار کے پاس چلی گئی۔ اس کے والدین نے اسے منایا اور یقین دلایا کہ اب وہ اس کی شادی اس شخص سے نہیں کرائیں گے، مگر واپس لانے کے بعد انہوں نے جبرا اس کے ساتھ نکاح پڑھا دیا۔ شادی کے بعد شوہر نے اس کے قریب آنے کی ایک بار کوشش کی مگر نورا نے اسے قریب نہ آنے دیا۔ اس نے دوبارہ کوشش کی جس پر دونوں میں جھگڑا ہوا۔ نورہ نے اپنے ہی شوہر کو آبرو ریزی کا قصور وار قرار دیتے ہوئے تیز دھار آلے کے وار سے اسے قتل کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں