کویت ٹی وی کی پیش کار مرد ساتھی کو آن ایئر’’ خوبرو‘‘ کہنے پر معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کویت کی وزارت اطلاعات نے سرکاری ٹی وی کی ایک پیش کار کو اپنے ساتھی مرد کو براہ راست نشریات کے دوران میں ’’خوبرو‘‘ کہنے پر معطل کردیا ہے جس پر سوشل میڈیا پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

کویت کے ایک رکن پارلیمان محمد ہایف نے کویت ٹی وی چینل کی ایک پیش کار باسمہ الشمار کے بارے میں وزارت کو یہ شکایت کی تھی کہ انھوں نے ملک میں منعقدہ حالیہ بلدیاتی انتخابات کی براہ راست کوریج کے دوران میں اپنے ایک مرد ساتھی پیش کار کو خوبرو اور چاق چوبند کہا تھا۔اس شکایت پر وزارت نے بسمہ کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کویت میں سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔اس میں خاتون پیش کار اپنے مرد ساتھی نواف الشراکی کو خبردار کرنے کی کوشش کررہی ہیں کہ وہ آن ائیر ہیں۔ اس وقت وہ اپنے روایتی سرپوش کو درست کرنے کی کوشش کررہے تھے۔اس خاتون کے الفاظ یہ تھے:’’ نواف آپ کو اپنا سرپوش درست کرنے کی ضرورت نہیں ،آپ تو پہلے خوب صورت ہیں ‘‘۔

باسمہ الشمار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے جو کچھ کہا ، یہ تو ایک معمول کی بات تھی۔خلیج میں ابلاغ کا ایک معروف طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کسی کو لباس درست کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ اس کو یہ کہتے ہیں کہ آپ تو ویسے ہی خوب صورت نظر آرہے ہیں۔میں نے بھی نواف کو یہی کچھ کہا تھا کہ آپ تو ویسے ہی خوبرو ہیں ،اس لیے آپ کو اپنا سرپوش درست کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہم آپ کے خبری رپورٹ پیش کرنے کے منتظر ہیں‘‘ ۔

انھوں نے کہا کہ انھیں کویتی سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان توتکار کی وجہ سمجھ نہیں آئی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ’’ پارلیمان کے ایک رکن نے ایک ٹویٹ کی اور ا س میں کویت ٹی وی سے یہ پوچھا تھا کہ ایک سرکاری چینل پر ایک پیش کار کیسے اس طرح کے الفاظ ادا کرسکتی ہے‘‘۔باسمہ نے ٹی وی سے اپنی معطلی کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب نواف الشراکی نے وضاحت کی ہے کہ وزارتِ اطلاعات نے ان کی ساتھی پیش کار کو زبانی طور پر معطلی کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔انھوں نے اپنی ساتھی خاتون کی پیشہ ورانہ لگن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے لفظ خوبرو نہیں سنا تھا اور اسی لیے انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ سرپوش نہیں بلکہ اپنا ہیڈ فون درست کررہے تھے۔

نواف کا کہنا تھا کہ وہ کام سے فراغت کے بعد جب ایک کافی شاپ میں گئے تو انھیں سوشل میڈیا پر ہونے والے تبصروں سے اس واقعے کا پتا چلا تھا ۔پھر ان کے دوستوں اور خاندان کے افراد نے بھی فون کرنا شروع کردیے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں اپنی ساتھی پیش کار کی تعریف کی ہے اور انھیں میڈیا کی بہترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں