.

آسٹریلیا: گاڑی نے بھاری بھرکم بوئنگ 787 طیارہ کھینچ ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کے شہر میلبرن کے ہوائی اڈے پر بجلی سے چلنے والی گاڑی Tesla Model X نے آسٹریلیا کی فضائی کمپنی کے ایک بوئنگ 787-9 طیارے کو کھینچ کر اپنی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ آیا کسی اور گاڑی کے لیے اس حجم کے طیارے کو کھینچنا ممکن ہے ؟

بوئنگ 787 طیارہ زیادہ سے زیادہ 254 ٹن وزن کے ساتھ اڑان بھر سکتا ہے۔ تاہم جس طیارے کو رن وے پر کھینچا گیا وہ خالی تھا اور اس کا وزن صرف 130 ٹن تھا۔ البتہ وزن اس معاملے میں بہت زیادہ فرق پیدا نہیں کرتا۔ اس لیے کہ کسی جسم پر لاگو ہونے والی قوت کی تیزی میں اس کی حرکت کے حوالے سے تبدیلی آتی ہے اور کھینچے جانے والے جسم کا وزن جتنا زیادہ ہو گا حرکت کی رفتار اتنی ہی کم ہو جائے گی۔

اس حجم کے طیارے کو کھینچے جانے کے عمل میں رگڑ کی اُس قوت کو بھی زیر غور رکھنا چاہیے جو طیارے کے ٹائر کے رن وے کی زمین کو چھونے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

تدویر یعنی Torque کو بجلی اور روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے انجنوں کے درمیان مرکزی فرق شمار کیا جاتا ہے۔ تدویر ہی وہ عامل ہے جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ انجن گاڑی کے ٹائروں کو کس طرح گردش میں لائے گا اور ٹائروں کے گھومنے سے گاڑی آگے کی جانب جائے گی۔ واضح رہے کہ Tesla Model X گاڑی 660 نيوٹن / میٹر کی تدویر پیدا کر سکتی ہے جب کہ کوئی بھی دوسری اسپورٹس کار غالبا 346 نیوٹن / میٹر کی حدود میں رہتی ہے۔

تدویر کی طاقت کے علاوہ طیارے کو کھینچنے والی گاڑی کا وزن بھی زیر غور ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر گاڑی کا وزن ہلکا ہو گا تو وہ طیارے کو کھینچنے یا حرکت میں لانے کے قابل نہیں ہو گی۔