.

ایرانی وزیر خارجہ نے جوہری سمجھوتے کو ’’قریبِ مرگ‘‘ مریض قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمان کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جوہری سمجھوتے کو ’’ قریبِ مرگ ‘‘ مریض قرار دے دیا ہے۔انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے بعد یہ بیان جار ی کیا ہے۔

ایرانی پارلیمانی کی تعمیراتی کمیٹی کے سربراہ محمد رضا رضائی کوچی نے اتوار کو مہر نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’جواد ظریف نے بند کمرے کے اجلاس میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ’’ڈیل انتہائی نگہداشت میں ہے اور وہ اس وقت بہت ہی نازک صورت حال سے گزر رہی ہے‘‘۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یہ اجلاس پارلیمان کی عمارت میں ہوا تھا اور اس میں پارلیمان کے اسپیکر ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور اعلیٰ مذاکرات کار کے علاوہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ جواد ظریف نے کہا کہ ’’یہ سمجھوتا یورپیوں کی جانب سے مذاکرات کے دوران میں کوئی واضح موقف اختیار نہ کرنے کی وجہ سے اپنی موت آپ مررہا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ یورپی اب کتنی دیر امریکی پابندیوں کی مزاحمت کریں گے کیونکہ یورپی کمپنیوں کے زیادہ تر حصص داران تو امریکی ہیں‘‘۔

تاہم رکن پارلیمان کا کہنا تھا کہ ’’ یہ یورپی کمپنیاں شاید اپنی حکومتوں کی پالیسیوں پر عمل درآمد نہ کریں ‘‘۔اجلاس میں ایران کی اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے معاہدے میں شمولیت کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔

اس رکن پارلیمان کے بہ قول اجلاس میں اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس معاہدے میں شمولیت سے ایران کو نقصان پہنچے گا کیونکہ مغرب ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ اور حماس ایسے گروپوں کو دہشت گرد قراردے سکتا ہے۔تاہم وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ایران کی اس کے اتحادی گروپوں کے لیے حمایت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔