.

برطانیہ کی بے گھر خاتون کروڑ پتی کیسے بنی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک 50 سالہ خاتون کی مسلسل محنت،لگن اور ہمت بہت سے لوگوں کے لیے نمونہ عمل ہوسکتی ہے۔ 50 سالہ بینی اسٹریٹرکا شمار برطانیہ کی امیر خواتین میں ہوتا ہے اور اور ان کی دولت کا اندازہ 10 کروڑ 57 لاکھ آسٹریلو پاؤنڈز بتایا جا رہا ہے مگر آج سے پچیس برس قبل وہ سڑکوں پر بےکار گھومتی تھی اور اس کے پاس رہائش کے لیے اپنا گھر بھی نہیں تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں اس محنت دوست خاتون کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ موصوفہ اس وقت برطانیہ کی کئی کمپنیوں کی مالک ہیں اور ان کمپنیوں کو آمدن کے اعتبار سے مملکت کی بڑی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آج سے تین عشرے پیشتر بینی اسٹریٹر نے کاسمیٹک کے شعبے میں کام شروع کیا تو اس وقت اس کا شمار مفلس افراد میں ہوتا تھا۔ اس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا، حتیٰ کہ وہ 20 ہزار آسٹریلوی پاؤنڈ کی مقروض بھی تھیں۔ غربت کے باعث اس کی شادی بھی ناکام ہوچکی تھی۔

آج اس کا شمار برطانیہ کی آمدن کے اعتبار سے بڑی کمپنیوں کی مالک کے طورپر ہوتا ہے۔ اخبار ’سنڈے ٹائمز رچ‘ نے گذشتہ ہفتے امراء کی ایک فہرست میں اس کا نام بھی شامل کیا ہے اور اس کی دولت کا اندازہ 157 ملین آسٹریلوی پاؤنڈز لگایا ہے۔

چار بچوں کی ماں نے مزاح میں بات کرتے ہوئےکہا کہ ’حالات تو اب بھی بدستور خراب ہیں کیونکہ ابھی میرا نام وہیں ہے‘۔

اخبار میں شائع ہونے والی فہرست میں اپنا نام شامل ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اسٹریٹی نے کہا کہ کسی زمانے میں میں بھی ایسی فہرستیں پڑھا کرتی اور خواہش کرتی تھی کہ میرا نام بھی ان میں شامل ہوتا۔ شروع میں مجھے ایسا بالکل یقین نہیں تھا مگر میں نے محنت سے اپنا کام جاری رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ میری زندگی میں انقلابی تبدیلیاں آئیں۔ میرا لباس اور طرز زندگی سب بدل گیا مگر دوبارہ غربت کا خوف مجھے مسلسل محنت جاری رکھنے پر مجبور کرتا تھا۔

آج وہ ’فورڈ موسٹانگ‘ ماڈل کی کار استعمال کرتی ہیں جن کی قیمت 30 ہزار آسٹریلوی پاؤنڈ ہے مگر وہ کہتی ہیں کہ مجھے ’فیٹ پانڈا‘ کی اس چھوٹی کار کا واقعہ بھی یاد ہے جسے وہ 1989ء میں فروخت کرنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔

ناخوش گوار یادیں

اپنی زندگی کی نا خوش گوار یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بینی اسٹریٹر نے کہا کہ اس کی شادی 19 سال کی عمر میں ڈوگلاس سٹریٹر کے ساتھ ہوئی۔ شوہر پیشے کے اعتبار سے ڈرائیونگ کوچ تھے۔ ان کی شادی صرف سات سال جاری رہ سکی۔ شادی ختم ہونے کے بعد ان کے پاس رہائش نہیں تھی۔

اس وقت وہ تیسرے بچے کے لیے امید سے تھیں، جب کوئی راستہ نہ ملا تو حکومت سے مدد لینا پڑی۔ اس نے طویل عرصہ جنوبی لندن میں بے گھر خاتون کے طورپر بسر کیا۔ حالات کے بہتر ہونے تک اس کی ماں بھی مدد کی۔

اسٹریٹر کا کہنا تھا کہ بچپن بہت شاندار گذرا تھا اور ایسی کوئی پریشانی بچپن میں دیکھنے کو نہیں ملی۔ مگر جوانی میں حالات بدل چکے تھے۔ مجھے مسلسل محنت کے سوا اور کوئی کچھ نہیں کرنا تھا۔

کمپنیاں اور املاک

بینی اسٹریٹر کی کمپنیوں میں اس وقت 600 افراد ملازمت کرتے ہیں۔ اس کا مرکزی کاروباری گروپ A24 ہے۔ یہ کمپنی صحت کے شعبے میں کام کرتی ہے مگر اس کے علاوہ رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے شعبے میں بھی سرگرم ہیں۔

اس کی کمپنیاں نہ صرف برطانیہ میں ہیں بلکہ وہ جنوبی افریقا میں بھی کام کرتی ہیں۔ سنہ 2004ء میں انہوں نے اپنی کمپنی کا صدر دفترجنوبی افریقا منتقل کردیا تھا۔

جنوبی افریقا میں اس نے انگوروں کا ایک فیلڈ قائم کیا۔ اس کےعلاوہ چار ہوٹل بھی خرید رکھے ہیں۔

برطانیہ میں اس کی املاک میں میکنتھ ھیتھ گالف کلب، مغربی ساسکس میں ایک سیرگاہ بھی ہے جہاں انگریزی شراب بھی تیار کی جاتی ہے۔

مسلسل محنت

ایک سوال کے جواب میں بینی اسٹریٹر نے کہا لوگ اکثر مجھے سے پوچھتے ہیں کہ میں امیر ہونے کے باوجود ساحل سمندر پر عیاشی اور سیرو تفریح کے لیے نہیں کیوں نہیں جاتی؟ میرا جواب ہوتا ہے کہ میں مسلسل محنت کرتی ہوں۔

اب وہ اپنے دوسرے شوہر 63 سالہ نیک ریا کے ساتھ رہتی ہیں۔ وہ بھی کاروباری شخصیت ہیں۔ ریا اسٹریٹر کی چوتھی اولاد [17 سالہ بیٹی ٹیلی] کے والد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں ہفتے میں چھٹی کے روز بھی کام کرتی ہوں۔ محنت ہی میرا شعار ہے اور میں اس سے بالکل نہیں اکتاتی۔

اس کا کہنا کہ میں اپنا موبائل فون کبھی بند نہیں کرتی،اپنا کمپیوٹر اور موبائل ہر وقت پاس رکھتی ہوں۔ میرے نزدیک کام سب سے اہم ہے۔ میرے بچے بھی مجھے کہتے ہیں محنت آپ کا پہلا بچہ ہے۔