.

پابندیوں سے بچنے کے لیے 8 یورپی کمپنیاں ایران سے واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے نفاذ کے اعلان کے بعد ایران میں کام کرنے والی آٹھ بڑی یورپی کمپنیوں نے ان پابندیوں سے بچنے کے لیے واپسی کی راہ لی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ایوان صنعت وتجارت کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ یورپی ملکوں کی آٹھ بڑی کمپنیوں نے ایران میں اپنا کام سمیٹنے کے بعد واپسی شروع کردی ہے۔ ان میں ٹوٹل، آنی، سیمنز، ایئربس، الیانٹس، ساگا ڈنیلی اور مائیرسک سر فہرست ہیں۔ ان کمپنیوں نے امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کی طرف سے ایران کے جوہری معاہدے سے علاحدگی اور تہران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے 10 دن بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے’تسنیم‘ کے مطابق یورپی یونین کے ہائی کمیشن کی جانب سے ایران میں کام کرنے والی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے لیے قانون سازی کی کوششیں کی ہیں مگر اس کے باوجود کئی بڑی بڑی فرمیں ایران سے واپس جانے کی تیاری کررہی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے ایران میں کام کرنے والی غیرملکی کمپنیوں کو 180 دن کی مہلت دی ہے۔ ان میں میرسک شپنگ کمپنی بھی شامل ہے جو دنیا بھر میں آبی نقل وحمل کی سب سے بڑی کمپنی شمار کی جاتی ہے۔ ایران میں کام چھوڑ کر واپس جانے والی کمپنیوں میں CMA CGM اور Evergreen جیسی کمپنیاں مہلت سے 170 دن پہلے ہی ایران سے نکل گئی ہیں۔

فرانسیسی آئل کمپنی ’ٹوٹل‘ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ جنوبی فارس گیس فیلڈ میں اپنا منصوبہ جاری رکھنے سے معذرت کرتی ہے۔ امریکا کی طرف سے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد اس کمپنی کے لیے کام جاری رکھنا مشکل ہے۔

اطالوی کمپنی ’ڈانیلی‘ نے بھی ایران میں 1.5 یورو کی سرمایہ کاری ختم کرتے ہوئے ایران سے واپس جانے کا اعلان کیا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو الیسانڈرو ٹریلویلین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے حوالے سے تازہ اقدامات کے بعد کمپنی مزید کام جار نہیں رکھ سکے گی۔ اس کمپنی نے ایران کے ساتھ 2016ء مین 5.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا تھا۔

ناروے کی شمسی توانائی کمپنی ’ساگا‘ نے بھی ایان کی ’امین‘ نامی توانائی کمپنی کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کار کا پانچ سالہ معاہدہ ختم کردیا۔ یہ معاہدہ 2017ء میں طے پایا تھا۔

یورپی ’ایئربس‘ نے دسمبر 2016ء میں ایران کو 100 مسافر طیارے فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت اب تک صرف 3 طیارے فراہم کیے گئے ہیں۔ کمپنی نے معاہدہ برقرار رکھنے سے معذرت کرتے ہوئے مزید ہوائی جہاز نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

اطالوی آئل اینڈ گیس کمپنی ANI نے جون 2017ء کو ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا مگر حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران بارے اعلان کے بعد اس کمپنی نے بھی اپنا سرمایہ واپس لینے کا اعلان کیاہے۔ ڈینش شپنگ کمپنی ’مائرسک‘ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکی پابندیوں کے خوف سے اس نے بھی ایران میں اپنی تمام تجارتی سرگرمیاں بندکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔