.

بھارت : ہندو بلوائیوں نے گائے ذبح کرنے پر مسلمان کو تشدد سے مار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں انتہا پسند ہندوؤں نے ایک مسلمان درزی کو ایک گائے ذبح کرنے کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا ہے۔

یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے ضلع ستنہ میں واقع ایک گاؤں امگارا جمعہ کو پیش آیا تھا۔اس ضلع کے مقامی پولیس افسر اروند تیواری نے بتایا ہے کہ ہندوؤں کے ایک جتھے نے 45 سالہ ریاض خان کو لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا تھا۔ایک اطلاع کے مطابق اسے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا۔

سراج خان کے ساتھ اس کے ایک دوست شکیل مقبول کو بھی مارا پیٹا گیا تھا۔اس کو شدید زخمی حالت میں جبل پور کے اسپتال داخل کرادیا گیا جہاں اس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

تیواری نے بتایا ہے کہ گاؤں امگارا کے چار افراد کو حملے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں۔ ہم واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ کیوں پیش آیا ہے۔انھوں نےمزید کہا کہ جائے وقوعہ سے گوشت ، گائے کی دو کھالیں اورباقیات ملی ہیں لیکن فوری طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ہفتے کو اس ضلع میں چار سو اضافی پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش سمیت بھارت کی بعض ریاستوں میں گائے ذبح کرنے پرمکمل پابندی عاید ہے۔یہ ایک فوجداری جرم ہے اور اس کے الزام میں قصور وار ثابت ہونے کی صورت میں سات سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔بعض ریاستوں میں اس کی سزا عمر قید ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے ووٹروں سے گائے کے ذبح پر ملک بھر میں مکمل طور پر پابندی عاید کرنے اور اس کو غیر قانونی قرار دینے کا وعدہ کیا تھا۔

ہندو گائے کو اپنے لیے مذہبی طور پر متبرک خیال کرتے ہیں اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف گائے ذبح کرنے یا اس کا گوشت کھانے کے شُبے میں تشدد کی کارروائیاں تیز کررکھی ہیں اور اب تک متعدد مسلمان ہندو بلوائیوں کے تشدد سے جان کی بازی ہار چکے ہیں یا وہ زندگی بھر کے لیے اپاہج ہوچکے ہیں۔

بھارت میں گائے کے ذبح اور گوشت کی بنا پر آئے دن مذہبی تشدد کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ہندو بلوائی گائے کا گوشت فروخت کرنے کے شبے میں مسلم قصابوں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہتے ہیں یا ان کی دکانوں کو نذرآتش کردیتے ہیں۔

یادرہے کہ سنہ 2015ء میں دارالحکومت نئی دہلی کے نواح میں انتہا پسند ہندو بلوائیوں نے ایک پچاس سالہ مسلمان محمد اخلاق کو اس کے گھر سے باہر گھسیٹ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اس کو اذیتیں دے کر جان سے مار دیا تھا۔ہندو بلوائیوں نے اس سفاکیت کا مظاہرہ محض اس افواہ پر کیا تھا کہ مقتول محمد اخلاق نے گائے کا گوشت کھایا تھا اور اس کو اپنے گھر میں ذخیرہ کیا تھا لیکن بعد میں تحقیقات سے یہ ثابت ہوا تھا کہ گھر میں رکھا گوشت بکرے کا تھا۔اس حملے میں اخلاق کا بائیس سالہ بیٹا شدید زخمی ہوگیا تھا۔