.

امریکا ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عاید کرے گا: مائیک پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی قیادت اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی تو پھر تاریخ میں اس ملک کے خلاف سخت ترین پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے اعلان کے قریباً دو ہفتے کے بعد مائیک پومپیو نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف سخت ترین حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت امریکی محکمہ خارجہ ایران کو دیوار سے لگانے کے لیے پینٹاگان اور خطے میں اتحادیوں کے ساتھ مل جل کر کام کرے گا۔

مائیک پومپیو نے ایران کو بارہ مطالبات پیش کیے ہیں اور کہا ہے کہ اس کو اقتصادی پابندیوں میں صرف اسی صورت میں کوئی رعایت دی جائے گی جب واشنگٹن کو تہران کی پالیسیوں میں کوئی جوہری تبدیلی نظر آئے گی۔

کاروبار کی ممانعت

وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ جو کوئی بھی ایران کےساتھ ممنوعہ کاروبار کرے گا تو امریکا اس کا محاسبہ کرے گا۔

انھوں نے ایران کے خلاف ایسے وقت میں مزید پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دی ہے جب تین یورپی ممالک فرانس ، برطانیہ اور جرمنی امریکا کے جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں اور وہ ایران میں کاروبار کرنے والی یورپی کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچانا چاہتے ہیں۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکا ایران سے نئے سمجھوتے کے لیے تیار ہے اور اپنے اتحادیوں کی حمایت چاہتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گذشتہ روز ہی ایک بیان میں جوہری سمجھوتے کو ’’ قریبِ مرگ ‘‘ مریض قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’’جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتا جان کنی کے عالم میں ہے اور یورپی فریقوں کی جانب سے مذاکرات کے دوران میں کوئی واضح موقف اختیار نہ کرنے کی وجہ سے اپنی موت آپ مررہا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ یورپی اب اور کتنی دیر امریکی پابندیوں کی مزاحمت کریں گے کیونکہ یورپی کمپنیوں کے زیادہ تر حصص داران تو امریکی ہیں‘‘۔