ایرانی فورسز شام ہی میں موجود رہیں گی : ترجمان وزارتِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے واضح کیا ہے کہ شام سے ایرانی فورسز واپس نہیں آئیں گی بلکہ وہ وہاں شامی حکومت کی درخواست پر ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ جاری رکھیں گی۔

بہرام قاسمی نے سوموار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ایران کو اس کی منشا کے بغیر کسی اقدام پر مجبور نہیں کرسکتا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ’’ جب تک شام میں ایران کے موجود رہنے کی ضرورت ہے اور دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے تو ایرا ن شامی حکومت کے مطالبے پر اس کی مدد جاری رکھے گا‘‘۔

انھوں نے جوہری سمجھوتے کے حوالے سے کہا کہ’’ اب ہمارے پاس کوئی زیادہ وقت نہیں رہ گیا ہے۔اب ہم دیکھیں گے کہ یورپ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیا اقدامات کرتا ہے۔اگر ہمیں کوئی یقین دہانی کرائی جاتی ہے تو ہم پھر ضروری فیصلے کرسکتے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ شام کے ایک اور اتحادی ملک روس نے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے اور شام کے لیے صدر ولادی میر پوتین کے خصوصی ایلچی الیگزینڈر لا فرنتیف نے کہا کہ روسی صدر کے شام سے غیرملکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق بیان میں ایران کا حوالہ دیا گیا تھا اور ان کا اشارہ بشارالاسد کے قریبی اتحادی ملک ایران کی فورسز کو نکالنے کی طرف ہی تھا۔

صدر پوتین نے جمعرات کو شامی صدر بشار الاسد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں جاری تنازع کے سیاسی حل سے دوسرے ممالک کی جنگ زدہ ملک سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کے لیے حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

روس اور ایران دونوں ہی شامی صدر بشارالاسد کے مضبوط اتحادی ہیں ،ان کے فوجی اور ایران کی بالخصوص تربیت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کے جنگجو اسدی فوج کے شانہ بشانہ شامی باغیوں اور دوسرے گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں ۔ان دونوں ممالک کی فوجی امداد کی بدولت ہی شامی فوج نے باغیوں کے خلاف لڑائی میں فتوحات حاصل کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں