.

ایران کے مقابلے کے لیے امریکی "روڈ میپ" کن امور پر مشتمل ہو گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو آج پیر کے روز ایک اہم خطاب میں ایران کے رویّے کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا کی پالیسی کا اعلان کریں گے۔ اس پالیسی کا مقصد ایران کی طرف سے دہشت گردی کی سپورٹ اور خطّے میں عدم استحکام کی کوششوں سے نمٹنا ہے۔ اس کے علاوہ پومپیو تہران کے جوہری اور میزائل پروگراموں ، ایرانی عوام کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھی امریکی خارجہ پالیسی کے خاکے کو بیان کریں گے۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو ایران کی جوہری سرگرمیوں پر روک لگانے، بیسلٹک پروگرام کو موقوف کر دینے اور خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے ایرانی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے واسطے امریکا کی نئی اور جامع حکمت عملی پیش کریں گے۔ وہ اپنے خطاب میں اس بات کا بھی تعین کریں گے کہ ایرانی نظام کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں امریکا اپنے یورپی اور علاقائی حلیفوں کے تعاون سے کیا کچھ کرنا چاہتا ہے۔

اس سے قبل پومپیو زور دے کر یہ کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن سعودی عرب اور خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تا کہ ایران کی جوہری خواہشات، اس کے ہتھیار بند ہونے کے پروگراموں اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں پر روک لگائی جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے امریکا کی جامع پالیسی سے متعلق خاکہ کھینچ چکے ہیں جب انہوں نے 8 مئی کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے سے دست برداری کے ساتھ ہی اب امریکا کے حلیفوں کے ساتھ کام کیا جائے گا تا کہ ایران کے جوہری خطرے کے لیے ایک جامع اور مستقل حل تلاش کیا جائے۔ اس میں ایران کے بیسلٹک میزائلوں کے خطرے، دنیا بھر میں تہران کی دہشت گرد سرگرمیوں پر روک اور پورے مشرق وسطی میں ایران کی خطرناک سرگرمیوں کا خاتمہ شامل کیا جائے گا۔ ہم اس سلسلے میں سخت ترین پابندیاں عائد کریں گے"۔

جمعرات کے روز وہائٹ ہاؤس میں نیٹو اتحاد کے سکریٹری جنرل کے ساتھ ملاقات میں ٹرمپ نے ایران کے خلاف عالمی اتحاد کی تشکیل کی وجوہات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ "آپ جہاں بھی جائیں آپ کو وہاں ایران کی جانب سے عدم استحکام کی کارروائیاں ملیں گی۔