.

افغانستان : جنوبی شہر قندھار میں بم دھماکا، 16 افراد ہلاک ، 38 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں بارود سے بھری ایک منی وین کے پھٹنے سے زور دار دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک اور کم سے کم چالیس زخمی ہوگئے ہیں ۔

افغان حکام کے مطابق بارود سے بھری یہ وین ایک بس اسٹیشن کے قریب کھڑی ملی تھی۔اس کی اطلاع پاکر سکیورٹی اہلکار وہاں پہنچے تھے اور وہ اس میں رکھے بارود کو ناکارہ بنانے کی کوشش کررہے تھے۔اس دوران میں وہ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔

صوبہ قندھار کے گورنر کے ترجمان داوؤد احمدی نے بم دھماکے میں چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت سولہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ زخمیوں میں دس سکیورٹی اہلکار اور چھے بچے بھی شامل ہیں۔انھوں نے بتایا کہ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ نزدیک سے گزرنے والے راہ گیر بھی اس کی زد میں آگئے۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے اڑتیس افراد کو قندھار کے میر ویس اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔اس اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر نعمت باراک کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر ابھی ان کی دو ایمبولینس گاڑیاں موجود ہیں اور ملبے تلے دبے مزید افراد ہوسکتے ہیں ۔

داؤد احمدی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو بم دھماکے کی جگہ کے نزدیک سے دھماکا خیز مواد ، راکٹ گرینیڈوں ، خود کش جیکٹوں اور گولہ بارود سے لدا ایک کنٹینر بھی ملا ہے۔ دہشت گرد رمضان کے اختتام پر قندھار شہر میں عید کی خریداری کے وقت شہریوں ایک بڑا حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن سکیورٹی فورسز نے ان کی اس سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔یہ دھماکا ایسے وقت میں ہوا ہے جب طالبان مزاحمت کاروں نے جنگ زدہ ملک میں سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کررکھے ہیں۔انھوں نے گذشتہ ہفتے صوبہ فراہ میں ایک بڑا حملہ کیا تھا لیکن اس کو افغان کمانڈوز نے امریکی فضائیہ کی مدد سے ناکام بنا دیا تھا۔

طالبان نے سوموار کو ایک بیان میں کابل کے مکینوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ فوجی مراکز سے دور رہیں کیونکہ وہ شہر میں مزید حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے انسپکٹر جنرل کے دفتر نے بھی گذشتہ روز ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں امن وامان کی صورت حال کی بہتری کے دعوے زمینی صورت حال سے لگا نہیں کھاتے ہیں اور طالبان کے خلاف جنگ اور سکیورٹی صورت حال میں بہتری کے چند ایک ہی اشارے ملے ہیں ۔تاہم امریکا کے بعض اعلیٰ فوجی کمانڈروں کا یہ کہنا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز اب طالبان کے خلاف لڑائی میں پہلے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔