.

امریکا: قتل کے کیس میں سزا یافتہ شخص 27 برس بعد بری !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں عدالت نے بے جا طور پر جیل بھیجے جانے والے ایک شخص کو 27 برس بعد سرکاری طور پر بری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اکتالیس سالہ جون بون کو بروکلین میں کام کرنے والے ایک پولیس افسر کو قتل کرنے کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی تو اُس کی عمر 14 برس تھی۔

فیصلہ سننے کے بعد بون کمرہ عدالت میں اپنے وکیل کے گلے لگ کر رو پڑا۔ بون کا کہنا تھا کہ "میں 27 برس تک اپنی زندگی اور براءت کے لیے لڑتا رہا"۔ اس نے جنرل پراسیکیوٹرز سے مخاطب ہو کر کر کہا کہ "میں ان میں سے کسی چیز کا مستحق نہیں تھا جن کا میں نے آپ لوگوں کی جانب سے سامنا کیا۔ میں ہمیشہ سے معزز اور بے قصور انسان رہا"۔ جون کا مزید کہنا تھا کہ "آپ لوگوں نے غلط شخص کو قصور وار ٹھہرا کر جیل میں ڈال دیا۔ جب کہ اصل قاتل اب بھی نامعلوم ہے"۔

بروکلن میں 13 اگست 1991ء کو ایک گاڑی میں بیٹھے ہوئے دو پولیس افسران رولینڈ نیچر اور روبرٹ کروسن کو صبح چار بجے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ عدالتی دستاویز کے مطابق دو مشتبہ حملہ آوروں نے ان افراد کی گاڑی چھیننے کی کوشش کی تھی۔ زخمیوں میں نیچر کو پانچ گولیاں لگیں اور وہ دم توڑ گیا جب کہ اس کا ساتھی کروسن زندہ رہ گیا۔

پولیس کو حاصل ہونے والی گمنام معلومات کے نتیجے میں 14 سالہ جون بون اور اس کے فرضی شریک 17 سالہ روزین ہارگروف کو حراست میں لے لیا گیا۔

امریکی عدالت کی خاتون جج نے حالیہ فیصلے کے دوران نیویارک پولیس کے ایک سابقہ مخبر کو شدید ملامت کا نشانہ بنایا جس نے مشتبہ افراد پر الزام عائد کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بون نے CBC نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے جیل کے اندر پڑھنا سیکھا۔

سال 2009ء میں پے رول پر رہائی کے بعد بون نے ایک غیر سرکاری تعلیمی تنظیم متعارف کرائی جس نے نیویارک کے رہنے والوں کے لیے 20 ہزار سے زیادہ کتابیں جمع کیں۔