.

شام کے صحرائی علاقے میں داعش کے حملے میں 26 سرکاری فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صحرائی علاقے میں داعش کے جنگجوؤں کے ایک حملے میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے چھبیس فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ شام کے صحرائی علاقے بادیہ میں آج منگل کی صبح داعش کے جنگجوؤں نے شامی فوج اور اس کی اتحادی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا اور اس میں چھبیس فوجی اور ان کی اتحادی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان میں ایرانی ملیشیا کے بعض جنگجو بھی شامل ہیں۔

بادیہ کا صحرا شام کے وسطی علاقے سے عراق کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔اس علاقے میں ابھی تک داعش کے جنگجوؤں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے تاریخی شہر تدمر ( پلمائرا) کے مشرق میں ایک چھوٹے فوجی اڈے پر پہلے کار بم سے حملہ کیا تھا۔اس کے بعد ان کی اسدی فوجیوں سے جھڑپ شروع ہوگئی تھی۔اس میں داعش کے پانچ جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے بادیہ میں اپنے زیر قبضہ ایک ٹھکانے سے شامی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔اسی علاقے میں دمشق کے جنوب سے بے دخل کیے گئے داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو بسوں کے ذریعے منتقل کیا گیا ہے۔

شامی حکومت نے سوموار کو دمشق کے جنوب میں واقعی علاقے الحجر الاسود پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دمشق اور اس کے تمام نواحی علاقوں پر دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ شامی رصدگاہ اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کے زبردستی انخلا کے بعد ہی اسدی فوج کا علاقے میں کنٹرول ممکن ہوسکا ہے۔