.

امریکا اور وینز ویلا میں سفارتی تنازع شدت اختیار کرگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی جانب سے وینز ویلا میں نکولس ماڈورو کے دوبارہ صدرمنتخب ہونے پر اقتصادی پابندیوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔

کراکس کی جانب سے امریکی پابندیوں کے جواب میں کئی امریکی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا گیا جس کے جواب میں امریکا نے بھی وینز ویلا کے سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وینز ویلا کی حکومت کی جانب سے ہمیں سفارتی چینلز کے توسط سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ وینز ویلا نے ہمارے متعدد سینیر سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو امریکا بھی جوابی اقدام کےطورپر وینز ویلا کے سفارت کاروں کو ملک سے نکال دے گا۔

قبل ازیں وینز ویلا کے نومنتخب صدر نکولس ماڈورو نےامریکا کی اقتصادی پابندیوں کے بعد امریکی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینیر عہدے دار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ آج کے حکم نامے سے بدعنوانی کا ایک اور راستہ بند ہو گیا ہے، جس کے بارے میں ہمارا مشاہدہ تھا کہ ایسا کیا جا رہا ہے۔ اس حکم نامے سے وینزویلا کے بدعنوان عہدے دار مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے قومی اثاثوں کو فروخت اور ان کے غلط استعمال کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماڈورو کا دوسری بار منتخب ہونا، ملک کے آئینی حکم نامے پر حملہ اور وینزویلا کی جمہوری روایات سے متصادم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ماڈورو انتظامیہ آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے جمہوریت کا راستہ اختیار نہیں کرتی، اسے عالمی برادری کی جانب سے تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ماڈورو نے اپنے عہدے داروں کی جانب سے اس اعلان کے بعد انہوں نے اپنے مدمقابل ہنری فالکون کے 21 فی صد کے مقابلے میں 68 فی صد ووٹ لیے ہیں، اپنے دوبارہ منتخب ہونے کو تاریخی قرار دیا ہے۔