.

امریکا اپنے اتحادیوں سے مل کر ایرانی خطرے کو روکنا چاہتا ہے: مائیک پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن اپنے زیادہ سے زیادہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری اور غیر جوہری خطرات کو روکنے کے لیے ایک نئی ڈیل چاہتا ہے۔

وہ بدھ کو امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے روبرو ایران سے متعلق اپنا پہلا پالیسی بیان دے رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ’’ ہم اپنے محکمہ دفاع کے ساتھیوں سے رابطے کے ذریعے ایران پر غیر معمولی مالیاتی دباؤ ڈالیں گے۔اس ضمن میں ایرانی عوام کی حمایت شاید بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ایران کے ساتھ ایک نئے سمجھوتے کے بارے میں اسی صورت میں غور کریں گے جب وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائے گا‘‘۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم ایران کے تما م جوہری اور غیر جوہری خطرات کو روکنے کےمقصد کے حصول لیے اپنے زیادہ سے زیادہ شراکت داروں ، دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں ۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسی ہفتے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کی قیادت اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی تو پھر تاریخ میں اس ملک کے خلاف سخت ترین پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔انھوں نے ایران کو بارہ مطالبات کی فہرست پیش کی تھی اور انھیں پورا نہ کرنے کی صورت میں اس کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ماہ ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبرداری اور ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔امریکی محکمہ خزانہ نے ایک روز پہلے ہی سپاہِ پاسداران انقلاب سے وابستہ پانچ ایرانیوں پر نئی پابندیاں عاید کردی ہیں ۔ان کے امریکا میں اگر کوئی اثاثے ہیں تو وہ منجمد کر لیے گئے ہیں اور امریکی ان کے ساتھ کسی قسم کا کاروبار نہیں کرسکیں گے۔