.

تصاویر کے آئینے میں: خرطوم کے ایک محلّے میں امریکی سفارتی اہل کاروں اور میرینز کا افطار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں امریکی سفارت خانے کے سیاسی اور اقتصادی مشیر بین والس نے دارالحکومت خرطوم کے ایک محلّے میں مقامی آبادی کے ساتھ رمضان کے دسترخوان پر بیٹھ کر افطار میں شرکت کی۔ امریکی سفارت خانے نے کئی برسوں سے "رمضان سفارت کاری" کا آغاز کیا ہوا ہے۔ اس دوران امریکی سفارت کار خرطوم کے جنوب میں الگ تھلگ واقع سفارت خانے کی عمارت سے نکل کر لوگوں کے ساتھ براہ راست شکل میں گھل مل جاتے ہیں۔

خرطوم میں امریکی سفارت خانہ سوشل میڈیا پر "دوستوں" کی دعوت قبول کرتا ہے اور سفارت کار ان کے علاقوں میں جا کر ملاقات کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں میں تحفے تقسیم کرتے ہیں۔ ان تحائف میں شہری حقوق کے دفاع کے علم بردار مارٹن لوتھر کنگ، پہلی امریکی خاتون ڈاکٹر الزبتھ بلیک ول کے معلق تصویری کہانیوں کے علاوہ امریکی آئین کی کاپیاں اور امریکی انتخابات کے طریقہ کار سے متعلق کتابچے شامل ہوتے ہیں۔

بین والس سینیگال اور تیونس میں بھی اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ اب وہ سوڈان میں "عوامی سفارت کاری" کے حوالے سے سرگرم ہیں۔ واضح رہے کہ سابق صدر باراک اوباما کے دور کے اختتام پر سوڈان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے جنہوں نے سوڈان کا نام اقتصادی پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا۔

البتہ سوڈان اور امریکا کے بیچ بات چیت کے دوسرے مرحلے کا ابھی انتظار ہے۔ توقع ہے کہ یہ مرحلہ دونوں ملکوں کے درمیان اہم ترین معاملے پر مرکوز ہو گا اور وہ ہے سوڈان کا نام امریکا کی دہشت گردی کی فہرست سے نکالا جانا۔

اب واپس آتے ہیں رمضان کے خصوصی افطار دسترخوان کی طرف .. جی ہاں خرطوم کے عوامی محلّے میں منعقد افطار میں امریکی سفارت خانے کے 15 افراد نے شرکت کی جن میں امریکی میرینز بھی شامل تھے۔

یہ تمام اہل کار اور میرینز واضح سکیورٹی پہرے کے بغیر افطار کے دسترخوان پر بیٹھے جو مذکورہ محلّے کے ایک میدان میں بچھایا گیا تھا۔ اس دوران مقامی آبادی کے لوگ امریکی مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہے اور ان کو کھانے کی ڈشیں اور مشروبات پیش کرتے رہے۔

اس موقع پر افطار کے دسترخوان کو سوڈان میں رمضان کے مشہور کھانوں اور مشروبات سے سجایا گیا تھا۔

بعد ازاں الکلاکلہ کے علاقے کی معروف شخصیت احمد الہاشمی کے گھر میں مہمانوں کے ساتھ سوڈانی قہوے کا دور چلا۔

امریکی سفارت خانے نے افطار میں شرکت کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ تمام اہل کار اس سرگرمی سے بھرپور طور پر لطف اندوز ہوئے۔

Kh4

اس حوالے سے بین والس کا کہنا ہے کہ "یہ افطار پروگرام سوڈانی ثقافت اور سوڈان کے عوام کے لیے امریکی سفارت خانے کے خراج تحسین کا ایک موقع تھا"۔ انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی تمام اشیاء "اچھی" تھیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی سفارت خانے کی ویب سائٹ نے امریکی میرینز اور امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور کی تصاویر جاری کی تھیں جو امریکی سفارت خانے کے پڑوس میں کھیتوں کے پہرے داروں اور ان کے خاندانوں میں رمضان کا سامان تقسیم کر رہے تھے۔

گزشتہ برس کے اختتام پر امریکی نائب وزیر خارجہ جون سولیفن کے خرطوم کے دورے کے بعد سوڈان اور امریکا کے درمیان تعلقات تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل امریکا نے آئل اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں سوڈان پر عائد پابندیاں نرم کر دی تھیں۔ تاہم اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں معمول کے تعلقات کے دوبارہ آغاز سے متعلق دونوں جانب سے جو وعدے کیے جاتے ہیں ان کے خدوخال ابھی تک غیر واضح ہیں۔